کشمیری مسلمانوں نے پنجاب کے غیر مسلم بڑھئی کی آخری رسومات انجام دیں

وسطی کشمیر کے ضلع گاندر بل میں مقامی لوگوں نے کورونا قہر کے بیچ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک غیر مسلم بڑھئی کی آخری رسومات انجام دے کر کشمیریوں کی رحم دلی اور انسان نوازی کی ایک اور مثال پیش کردی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: وسطی کشمیر کے ضلع گاندر بل میں مقامی لوگوں نے کورونا قہر کے بیچ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک غیر مسلم بڑھئی کی آخری رسومات انجام دے کر کشمیریوں کی رحم دلی اور انسان نوازی کی ایک اور مثال پیش کردی ہے۔ گاندربل کے واکورہ علاقے میں کئی برسوں سے بڑھئی کے طور پر کام کرنے والے 35 سالہ رنویر سنگھ کی لاش گذشتہ ہفتے اس کے کرایے کے کمرے میں پائی گئی۔ موت کی خبر پھیلتے ہی مقامی لوگ مرد و زن اس کے کمرے کے باہر جمع ہوگئے۔

رنویر کو اگرچہ اپنے دیگر ساتھیوں اور چند مقامی نوجوانوں نے ہسپتال پہنچایا لیکن وہاں اس کو مردہ قرار دیا گیا۔ موجودہ حالات کے پیش نظر مقامی لوگوں نے رنویر سنگھ کے گھر والوں کی اجازت حاصل کرنے کے بعد اس کی آخری رسومات اس کے ساتھیوں اور کچھ پنڈتوں کی ہدایات کے مطابق انجام دیں۔

متوفی کی آخری رسومات انجام دینے کی ایک مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں جہاں ایک طرف مقامی نوجوانوں کو کورونا کے پیش نظر حفاظتی لباس لگائے ہوئے اس کی چتا کو آگ لگانے کے لئے لکڑی وغیرہ کا انتظام کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے وہیں خواتین کو اس کی موت پر آبدیدہ ہوتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے اور لوگ اس کو پسند بھی کررہے ہیں اور اس کو بڑے پیمانے پر شیئر کرکے حیققی کشمیریت کی تشہیر بھی کی جارہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کشمیریوں نے ایسے حالات میں ایک پرائے کی میت کی آخری رسومات انجام دی ہیں جب دنیا میں لوگ اپنوں کی لاش کو قبول کرنے سے انکار کررہے ہیں کہ کہیں انہیں وائرس نہ ہوجائے۔ ویڈیو میں ایک مقامی شخص کا کہنا ہے: 'پنجاب سے تعلق رکھنے والا رنویر سنگھ یہاں کئی برسوں سے بڑھئی کے طور پر کام کرتا تھا، اس کی لاش اس کے کرایہ کے کمرے میں پائی گئی چونکہ موجودہ حالات کی وجہ سے اس کو گھر بھیجنا ممکن نہیں تھا تو یہاں مقامی لوگوں نے اس کی آخری رسومات انجام دینے کا فیصلہ لیا'۔

انہوں نے کہا کہ ہم چونکہ مسلمان ہیں لہٰذا اس کے ساتھیوں اور پنڈتوں کی ہدایات کے مطابق ہم نے اس کی آخری رسومات انجام دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کی آخری رسومات کی انجام دہی کے لئے مقامی نوجوانوں نے سارے انتظامات کئے۔ متوفی کے ایک رشتہ کو ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے: 'میں یہاں بیس برسوں سے کام کررہا ہوں، جب میرا بھائی مر گیا تو یہاں اس وقت بھی لوگوں نے میری کافی مدد کی'۔

Published: 15 May 2020, 5:40 PM