’نیٹ-یوجی کو فل پروف بنانے کے لیے کیا کیا؟‘ سپریم کورٹ نے مرکز کو 3 ہفتے کے اندر حلف نامہ داخل کرنے کا دیا حکم

عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت مرکزی حکومت کو ہدایت دے کہ یا تو این ٹی اے کو بدلا جائے یا پھر پوری طرح ایک نئی اور زیادہ محفوظ تنظیم بنائی جائے۔

سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
i

نیٹ-یوجی 2026 کے امتحان اور پیپر لیک سے متعلق کئی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں بدھ کو سماعت ہوئی۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے پوچھا کہ نیٹ-یوجی امتحان کو مکمل طور سے محفوظ اور فل پروف بنانے کے لیے حکومت نے اب تک کیا قدم اٹھائے ہیں۔ بنچ نے مرکز کو 3 ہفتے کے اندر اس تعلق سے حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اب اس معاملے کی آئندہ سماعت 3 ہفتے بعد ہوگی۔

عرضی گزاروں نے این ٹی اے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت مرکزی حکومت کو ہدایت دے کہ یا تو این ٹی اے کو بدلا جائے یا پھر پوری طرح ایک نئی اور زیادہ محفوظ تنظیم بنائی جائے۔ عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ نئی تنظیم تکنیکی طور پر مضبوط، زیادہ محفوظ اور آزاد طریقے سے کام کرنے والی ہونی چاہیے۔ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو نیٹ کا پورا سسٹم سمجھایا۔ انہوں نے کہا کہ سسٹم فل پروف ہے، لیکن کچھ جگہوں پر انسانی دخل ہوتا ہے۔


سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مزید بتایا کہ اگر فزکس کا 100 مارکس کا پیپر چاہیے تو پہلے کئی ماڈریٹر سے 500 سوالات کا کویشچن بینک بنوایا جاتا ہے۔ پھر ماڈریٹ کا دوسرا سیٹ اس میں سے 100-100 سوال منتخب کر کے 4 مختلف کویشچن پیپر بناتا ہے۔ اس کے بعد ڈی جی این ٹی اے ان 4 میں سے صرف 2 پیپر منتخب کرتے ہیں، تب تک کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ آخر میں کون سا پیپر جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس کے بعد پیپر کو ایک مہر بند باکس میں رکھ کر 2 مختلف پرنٹنگ پریس میں بھیجا جاتا ہے۔ پرنٹنگ پریس میں سی سی ٹی وی اور سی آئی ایس ایف کی نگرانی ہوتی ہے۔ ایک افسر ڈیجیٹل چابی لے کر جاتا ہے، جب وہ پہنچتا ہے تو پرنٹنگ پریس کا مالک ڈی جی این ٹی اے کو فون کرتا ہے۔ اس کے بعد کوڈ شیئر کر کے باکس کھولا جاتا ہے۔ ایک بار کھلنے کے بعد کسی باہری شخص کو پرنٹنگ پریس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے اور پورے عمل کی ویڈیوگرافی ہوتی ہے۔

سالیسٹر جنرل نے بتایا کہ اصول کے مطابق ہر کلاس روم میں 24 طلبہ ہوتے ہیں۔ او ایم آر شیٹ کے ساتھ کویشچن پیپر لیک ایک مہربند لفافے میں ہوتا ہے۔ اسے کھولنے کے لیے سیل توڑنی پڑتی ہے۔ تشار مہتا نے کہا کہ ہر امتحان مرکز پر پیکڈ کویشچن پیپر بھیجے جاتے ہیں۔ انہیں لوہے کے باکس میں پیک کیا جاتا ہے جس میں نان-اوپنیبل لاک لگا ہوتا ہے۔ اسے صرف توڑا جا سکتا ہے اس میں کوئی چابی یا ڈیجیٹل نمبر نہیں ہوتا۔ جس گاڑی میں پیپر لائے جاتے ہیں وہ جی پی ایس سے ٹریک ہوتی ہے۔ 2 مختلف باکس میں پیپر کے 2 سیٹ ہوتے ہیں۔ یہ باکس بینکوں کے اسٹرانگ روم میں رکھے جاتے ہیں، عام طور پر یہ ایس بی آئی یا کینرا بینک ہوتے ہیں۔ مان لیجے امتحان یکم فروری کو ہے تو صبح سٹی کوآرڈینیٹر کو ڈی جی بتاتے ہیں کہ کون سا سیٹ استعمال کرنا ہے۔ اس کے بعد ڈی ایم اور دیگر افسران کے ساتھ موٹرکیڈ میں پیپر لائے جاتے ہیں۔ ہر چیز کی ویڈیو گرافی ہوتی ہے، پھر پیکٹ ہر کلاس کوآرڈینیٹر کو دیے جاتے ہیں۔ تمام اسٹوڈنس کے سامنے سیل توڑی جاتی ہے۔ امتحان کے بعد پیپر انہیں اسٹیج سے واپس جمع ہوتے ہیں۔


عدالت نے سالیسٹر جنرل کی بات سننے کے بعد کہا کہ آپ نے جو بتایا وہ پہلے سے ہی رادھاکرشنن کمیٹی کے دائے میں ہے۔ کمیٹی نے بھی کہا تھا کہ یہ ایک سسٹمک پرابلم ہے جسے ادارہ جاتی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ’’ہماری تشویش یہ ہے کہ آپ امتحان کو کیسے ادارہ جاتی بنائیں گے۔ محفوظ آفس، خفیہ آپریشنل انفراسٹرکچر، سائبر سیکورٹی، ٹیسٹنگ سنٹر، سنٹرل نیٹورک آپریٹر، ان سب کے لیے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔‘‘ بنچ کا کہنا ہے کہ رادھاکرشنن کمیٹی نے بھی کہا تھا کہ پیپر سیل کرنے جیسے عمل کو ایک مستقل کمیٹی کے ذریعہ کیا جانا چاہیے۔ کتنے ڈی جی، اے ڈی جی مقرر ہوئے ہیں یہ ہم باقاعدہ حلف نامے کے ذریعہ جاننا چاہتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ اصل میں ضرورت ہے ’ انسٹٹیوشنل میموری اور انسٹٹیوشنل ایکسپرٹیز‘ کی۔ آپ کے پاس آر اینڈ ڈی انفراسٹرکچر ہونا چاہیے۔ ہر امتحان کا نظام اور ٹیکنالوجی بدلتی ہے۔ آپ کون سا سافٹ ویئر بنا رہے ہیں؟ ایک آزاد ڈیٹا بیس ہونا چاہیے۔ اسٹوریج کا انفراسٹرکچر ہونا چاہیے۔ سیکورٹی کے لیے ڈائریکٹ رینک کا افسر چاہیے۔ تبھی پتہ چلے گا کہ دقتیں کہاں ہیں۔ ہمیں ایک وائبرینٹ سسٹم اور انسٹٹیوشنلائزیشن چاہیے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ رادھا کرشنن کمیٹی کی سفارشوں کو حکومت نے مان لیا ہے۔ اب عدالت نے مرکزی حکومت کو 3 ہفتے میں حلف نامہ داخل کر بتانے کو کہا ہے کہ نیٹ کو فل پروف بنانے کے لیے کیا کیا قدم اٹھائے گئے ہیں۔