این ٹی اے ایکسپرٹس نے ہی لیک کرایا نیٹ-یوجی کا پیپر، سی بی آئی نے کیا انکشاف

سی بی آئی کے مطابق سوال نامہ کے خفیہ ترجمہ، بیک ٹرانسلیشن اور پروف ریڈنگ کے عمل کے دوران مضمون کے ماہرین نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

’نیٹ-یو جی 2026‘ کے پیپر لیک معاملہ میں سی بی آئی کی چارج شیٹ نے نظامِ امتحان پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تفتیشی ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ پرچہ کسی پرنٹنگ پریس سے لیک نہیں ہوا تھا، بلکہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے لیے کام کرنے والے مضمون کے ماہرین نے اپنی مجاز رسائی کا غلط استعمال کرتے ہوئے سوال نامہ باہر پہنچایا۔ اس معاملہ میں دائر چارج شیٹ پر دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ آئندہ 10 اگست کو نوٹس لے گا۔

سی بی آئی کے مطابق سوال نامہ کے خفیہ ترجمہ، بیک ٹرانسلیشن اور پروف ریڈنگ کے عمل کے دوران مضمون کے ماہرین نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ بوٹنی-زولوجی کی ماہر منیشا گروناتھ مندھارے، کیمسٹری کے ماہر پرہلاد وٹھل راؤ کلکرنی (پی وی کلکرنی) اور فزکس کی ماہر منیشا سنجے نے سوال نامہ کی معلومات باہر پہنچائیں۔


سی بی آئی کو تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ اپریل 2026 کے دوران پی وی کلکرنی اور منیشا مندھارے نے پونے میں اپنے گھروں پر خفیہ خصوصی ریویژن سیشن منعقد کیے۔ ان سیشنز میں امیدواروں کو سوالات، ان کے 4 متبادل اور درست جواب زبانی طور پر بتائے گئے۔ امیدواروں نے انہیں اپنی نوٹ بک میں ہاتھ سے لکھا تاکہ اس کا کوئی ڈیجیٹل ریکارڈ نہ بن سکے۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ فزکس کی ماہر منیشا سنجے نے سوالات پونے میں واقع اے پی ایم اے کے فزکس لیکچرر تیجس ہرشد کمار شاہ کو بتائے۔ اس کے بعد شاہ نے ہاتھ سے لکھے گئے نوٹس کی تصاویر کھینچیں اور انہیں لاتور کے رینوکائی کیریئر سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر شیوراج موٹے گاؤنکر کو بھیج دیا۔ سی بی آئی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ شاہ نے منیشا سنجے کے شوہر کے موبائل نمبر پر آن لائن رقم بھی منتقل کی۔

سی بی آئی کے مطابق پی وی کلکرنی اور منیشا مندھارے نے لاتور کے ماہر اطفال ڈاکٹر منوج بھگوان راؤ شرورے کے ساتھ مل کر امیدواروں کو سدھی ونائک اسپتال بلایا۔ وہاں امتحان سے پہلے امیدواروں کو پورا سوالیہ بینک یاد کرایا گیا تاکہ وہ امتحان میں انہی سوالات کو حل کر سکیں۔ تفتیش میں معلوم ہوا کہ ناسک کے شبھم کھیرنار نے گروگرام کے یش یادو سے رابطہ کیا۔ لیک شدہ سوالات کو پی ڈی ایف میں تبدیل کر کے ٹیلیگرام کے ذریعے یش یادو کو بھیجا گیا۔ اس کے بعد یش یادو نے یہ پی ڈی ایف جے پور کے مانگی لال بیوال عرف مانگی لال کھٹیک کو 10 سے 12 لاکھ روپے میں فراہم کی۔


سی بی آئی کی تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ مانگی لال نے سوال نامے کی پرنٹ کاپیاں نکال کر اپنے خاندان کے افراد، مقامی کوچنگ اداروں کے طلبا اور پرائیویٹ ٹیوٹرز میں تقسیم کر دیں۔ اس طرح لیک شدہ سوال نامہ امتحان سے پہلے ہی کئی امیدواروں تک پہنچ گیا۔ سی بی آئی نے بتایا کہ مرکزی فورنسک سائنس لیبارٹری اور سرکاری دستاویزات کے ماہر کی ہینڈ رائٹنگ جانچ میں اہم شواہد حاصل ہوئے ہیں۔ چھاپوں کے دوران برآمد ہونے والی امیدواروں کی نوٹ بکس کا موازنہ 3 مئی کو منعقدہ اصل نیٹ-یو جی سوال نامہ سے بھی کیا گیا۔ تفتیش میں دونوں میں موجود سوالات اور جوابات مکمل طور پر یکساں پائے گئے۔

سی بی آئی کو آن لائن ادائیگیوں سے متعلق ڈیجیٹل ریکارڈ بھی ملے ہیں۔ ان میں منیشا سنجے کے خاندان کے بینک اکاؤنٹ میں ہونے والے لین دین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر منوج شرورے کے خاندان کے ایک فرد سے پانچ لاکھ روپے نقد بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ سی بی آئی نے اسے تفتیش کا ایک اہم ثبوت قرار دیا ہے۔