چاندنی چوک کے عوام کو دیکھنا ہوگا کہ CAA پر کانگریس کہاں کھڑی ہے اور عآپ کہاں: الکا لامبا

دہلی میں انتخابی سرگرمیاں اپنے شباب پر ہیں اور چاندنی چوک اسمبلی حلقہ میں مقابلہ اس لئے دلچسپ ہوگیا کیونکہ جو دو رکن اسمبلی آمنے سامنے ہیں ان کا بنیادی طور پر تعلق کانگریس سے رہا ہے۔

تصویر نوجیون
تصویر نوجیون
user

تسلیم خان

چاندنی چوک اسمبلی حلقہ یعنی ایک چھوٹا ہندوستان، جہاں سماج کے ہر طبقہ کے لوگ رہتے ہیں، جہاں امیر بھی رہتے ہیں اور غریب مزدور بھی رہتے ہیں۔ وہ اسمبلی حلقہ جہاں سکھ سماج کی آبادی بہت کم ہے لیکن اس اسمبلی حلقہ سے کانگریس سے عام آدمی پارٹی میں شامل ہوئے پرہلاد سنگھ ساہنی 1998 سے 2013 تک لگاتار نمائندگی کرتے رہے ہیں اور سال 2015 میں ان کو ہرانے والی کانگریس کی وہ نوجوان رہنما تھیں جنہوں نے کانگریس چھوڑ کر عآپ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس حلقہ سے موجودہ رکن اسمبلی الکا لامبا، عام آدمی پارٹی سے کانگریس سے ماہ ستمبر میں آئے اور چار بار رکن اسمبلی رہے پرہلاد سنگھ ساہنی اور بی جے پی سے کونسلر سمن کمار گپتا امیدوار ہیں۔

اس حلقہ میں مسلم ووٹر فیصلہ کن ہیں اور یہ ووٹر فی الحال بالکل خاموش ہے، اس نے ابھی تک ذہن نہیں بنایا ہے۔ ایک طرف وہ یہ دیکھ رہا ہے کہ کون سی پارٹی بی جے پی کو ہرا سکتی ہے تو دوسری جانب ان کے ذہن میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر مظاہرہ ہیں جن کے مرکز میں کانگریس ہے۔ دہلی کی جامع مسجد جو عام طور پر مسلمانوں کے احتجاج میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہے اور جہاں سے مسجد کے امام مختلف مدوں پر حکومت کو للکارتے رہے ہیں، آج وہاں کے امام بھی بالکل خاموش ہیں، لیکن عوام میں بے چینی ہے اور وہ روز رات کو بعد نماز عشا گیٹ نمبر ایک کے باہر سیڑھیوں پر بیٹھ کر سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں۔

ویسے تو چاندنی چوک اسمبلی حلقہ میں مرکزی مقابلہ دو قدآور کانگریسیوں کے درمیان ہے، جس میں ایک کانگریس چھوڑ کر عآپ میں گئیں اور پھر واپس کانگریس میں آئیں الکا لامبا ہیں جبکہ حال ہی میں کانگریس چھوڑ کر عآپ میں شامل ہوئے پرہلاد سنگھ ساہنی ہیں۔ کانگریس کی امیدوار الکا لامبا کا کہنا ہے ’’میں بیس سال کانگریس میں تھی، اقتدار کا لالچ ہوتا تو میں بی جے پی میں جاتی، میں جدو جہد کرنے رام لیلا میدان گئی تھی جہاں سے ایک سیاسی پارٹی بنتی ہے۔ اس پارٹی کے مدے تھے بدعنوانی، لوک پال، سواراج، تبدیلی نظام، نشہ کے خلاف لڑائی لیکن میں پانچ سال میں کیجریوال کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔ جو نشہ بند کرنے آئے تھے لیکن انہوں نے 135 دکانیں شراب کی کھلوا دیں، بدعنوانی مدا تھا اور چاندنی چوک سے کیجریوال نے کانگریس کے امیدوار کو ہرانے کے لئے عوام سے کہا تھا کہ یہ بدعنوان ہے۔ لوگوں نے ہرا دیا، لیکن پھر کیا مجبوری ہوئی کہ کیجریوال نے اسی بدعنوان آدمی کو اپنا امیدوار بنا لیا‘‘ـ

الکا لامبا نے مزید کہا ’’اقتدار کے لئے سمجھوتہ کرنا شروع ہوگیا تھا اور یہ الکا لامبا برداشت نہیں کرسکتی تھی نہ ہی الکا لامبا مفت سہولیات دینے کے حق میں ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری پر بات کرنے کے بجائے مفت کا جھن جھونا دیا جا رہا ہے۔ انتخابات کے بعد کوئی چیز مفت نہیں رہے گی۔ اس لئے میری ذمہ داری بنتی تھی کہ میں واپس کانگریس میں آکر دہلی کو اسی راہ پر لے جاؤں جس کو دہلی کی شیلا دکشت نے بنایا تھا‘‘۔

واضح رہے پرہلاد سنگھ ساہنی کو سال 2008 میں 28 ہزار ووٹ ملے تھے جبکہ سال 2013 میں 24 ہزار ووٹ ملے۔ لیکن الکا لامبا جب عآپ سے چناؤ لڑی تھیں تب الکا لامبا کو 36 ہزار ووٹ ملے تھے اور تیسرے نمبر پر آئے پرہلاد سنگھ ساہنی کو 17 ہزار ووٹ ملے تھے جبکہ بی جے پی کی سمن کمار گپتا کو 18 ہزار ووٹ ملے تھے۔

شہریت ترمیم قانون اور این آر سی اگر اس اسمبلی حلقہ میں فیصلہ کن مدا ثابت ہوا، تو الکا لامبا دوبارہ منتخب ہو سکتی ہیں اور اگر مفت بجلی اور پانی مدا رہا تو عآپ کے لئے راہ آسان رہنے والی ہے۔ شہریت ترمیمی قانون پر کانگریس کی امیدوار کا کہنا ہے ’’جب سے بی جے پی آئی ہے اس وقت سے ایک دوسرے کے دلوں میں زہر بھرنے کا ماحول بنا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون ہے جو اس ملک کے آئین کو برباد کر دے گا وہ آج مرکزی مدا ہے۔ آج اس ملک کو مذہب کی بنیاد پر بانٹنے کی کوشش ہے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ کانگریس کہاں کھڑی ہے۔ بی جے پی اس کالے قانون کو لانے والی ہے اور کانگریس پوری طاقت سے اس تقسیم کرنے والے قانون کو روکنے کے لئے کھڑی ہے۔ کانگریس نے اعلان کر دیا ہے کہ جن ریاستوں میں کانگریس بر سر اقتدار ہے وہاں یہ قانون نہیں لا یا جائے گا۔ اس سارے معاملہ میں یہ صاف ہو گیا ہے کہ کیجریوال ایک دھوکہ ہے اور وہ دو کشتیوں میں سوار ہے۔ کیجریوال یہ نہیں سوچ رہے کہ ملک کہاں جا رہا ہے‘‘۔

الکا لامبا نے سارے معاملہ میں بی جے پی اور عآپ میں اتحاد ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ’’کیجریوال کا سمجھوتہ بی جے پی کے ساتھ ہوچکا ہے، یہ سب کو پتہ ہے کہ بی جے پی حکومت نہیں بنا رہی ہے اس لئے وہ کسی کو تو اقتدار میں لائے گی، وہ کانگریس کو تو لائے گی نہیں، تو وہ کانگریس کو روکے گی کیونکہ کانگریس شہریت ترمیمی قانون کے راستہ میں آڑے آئے گی۔ اس لئے بی جے پی کا کیجریوال سے سمجھوتہ ہے، اسی لئے کیجریوال نہ جامعہ گئے، نہ جے این یو گئے اور نہ ہی کسی مظاہرہ میں شامل ہوئے۔ جامع مسجد کے گیٹ نمبر ایک پر ہزاروں لوگ مظاہرہ کر تے ہیں ، کیا کیجریوال ان مظاہروں میں آئے؟ ان کا آر ایس ایس سے سمجھوتہ ہوا ہے کہ اس مدے پر انہیں خاموش رہنا ہے۔ کیجریوال چونکہ دو کشتیوں پر سوار ہیں اس لئے ان کا ڈوبنا یقینی ہے‘‘۔

یہ فیصلہ تو عوام 8 فروری کو ہی کریں گے کہ کس پارٹی کے حق میں وہ اپنی رائے کا اظہار کریں گے لیکن انتخابی سرگرمیاں اپنے شباب پر ہیں جس میں دھیرے دھیرے سی اے اے اور این آ ر سی انتخابی مدا بنتا جا رہا ہے۔ ان انتخابات میں بی جے پی کی شکست کا سیدھا مطلب وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی شکست ہوگی۔ (ویڈیو ضرور دیکھیں)

    next