مغربی بنگال میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کیا سیاست سے متاثر تھی! آئی ایم اے کی نیت پر سوال

آئی ایم اے کی ہڑتال کو مغربی بنگال کی سیاست سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ہڑتال سیاست پر مبنی تھی اور اس کا مقصد ایک خاص پارٹی کو فائدہ پہنچانا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

آس محمد کیف

ملک بھر میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے بعد ان کے مفادات کی حفاظت کرنے کا دعوی کرنے والی تنظیم انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) کی نیت پر لگاتار سوال اٹھ رہے ہیں۔ لوگ آئی ایم اے کی ہڑتال کو مغربی بنگال کی سیاست سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ہڑتال سیاست پر مبنی تھی اور اس کا مقصد ایک خاص پارٹی کو فائدہ پہنچانا تھا۔

واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل کولکاتا میں ایک جونیئر ڈاکٹر سے مارپیٹ کے بعد مغربی بنگال کے ڈاکٹر ہڑتال پر چلے گئے تھے۔ اس ہڑتال نے کچھ ہی روز بعد ملک گیر شکل اختیار کر لی اور دہلی سمیت مختلف صوبوں کے ڈاکٹر بھی ہڑتال پر چلے گئے۔ ہزاروں ڈاکٹروں کے سراپا احتجاج ہونے کی وجہ آئی ایم اے کی اپیل تھی۔ یہ ہڑتال ایسے وقت میں ہوئی جبکہ بہار میں چمکی بخار (اے ای ایس، ایکیوٹ انسیفیلائٹس سنڈروم) سے متاثر تھا اور وہاں 150 سے زیادہ بچے اپنی جان گنوا چکے تھے۔ بعد ازاں ممتا بنرجی کی طرف سے ڈاکٹروں سے بات چیت کیے جانے کے بعد آخر کار یہ ہڑتال ختم ہوئی۔

آئی ایم اے کی اس ہڑتال میں شامل ہونے اور پھر ملک بھر کے ڈاکٹروں سے احتجاج کی اپیل کرنے پر ملک بھر میں تنقید ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی آئی ایم اے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ گورکھپور میں جان گنوا رہے بچوں کے لئے آکسیجن کا انتظام کرنے کی وجہ سے معطلی جھیل رہے ڈاکٹر کفیل خان نے بھی آئی ایم اے کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔

ڈاکٹر کفیل نے 15 جون کو ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کے استحصال پر آئی ایم اے کی خاموشی پر سوال کھڑے کیے ہیں۔ ڈاکٹر کفیل کے مطابق انہوں نے آکسیجن کی کمی سے ہو رہی بچوں کی اموات کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی لیکن انہیں ریاستی حکومت نے غلط طریقہ سے معطل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ ہونے کے باوجود انہیں 6 مہینے جیل میں گزارنے پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کی معلومات ہونے کے باوجود آئی ایم اے نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ فی الحال ڈاکٹر کفیل مظفر پور میں چمکی بخار سے متاثرہ بچوں کی انسانیت کے ناطہ مدد کرتے ہوئے مفت علاج کر رہے ہیں۔

مہاراشٹر کی دلت سماجی کارکن ڈیزی کماری کے مطابق آئی ایم اے نے ڈاکٹر پائل تڑوی کی موت پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ واضح رہے کہ جون کے مہینے میں مسلم قبائلی بھیل طبقہ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر پائل تڑوی نے اپنے سینئر ڈاکٹروں کے تبصروں سے عاجز آکر خود کشی کر لی تھی۔ ڈیزی کماری کے مطابق یہ ایک تکلیف دہ واقعہ تھا۔ اس پر آئی ایم اے کو مؤثر رد عمل ظاہر کرنا چاہیے تھا کیوں کہ یہ ہزاروں خوابوں کا قتل تھا لیکن حیرانی کی بات ہے کہ آئی ایم اے کی گہری نیند نہیں ٹوٹی۔

اس کے علاوہ گزشتہ ایک سال میں ایک درجن سے زیادہ معاملات میں ڈاکٹروں کے ساتھ مار پیٹ ہوئی ہے۔ جیسے 13 جولائی 2018 کو دہلی کے راؤ تلارام اسپتال میں ڈاکٹروں اور پولس اہلکار کی پٹائی کے وقت آئی ایم اے نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا تھا۔

سیکولر فرنٹ کے گوہر صدیقی کے مطابق 2017 میں بی جے پی کے رکن پارلیمان اننت ہیگڑے نے کارواڑ میں ڈاکٹر کی پٹائی کر دی تھی۔ یہ معاملہ کافی گرمایا تھا لیکن آئی ایم اے یہاں بھی سوتی رہی۔ ظاہر ہے کہ آئی ایم اے کا احتجاج سلیکٹیو ہے۔ یہی نہیں اسی سال 25 مئی کو پونے کے ڈی وائی پاٹل اسپتال میں ایک ڈاکٹر اور اس کے معاونین کو مریضوں کے تیمارداروں نے دوڑا دوڑا کر پیٹا۔ اس کے بعد بھی آئی ایم اے نے کچھ نہیں کہا۔

سہارنپور کے ایڈوکیٹ سجاد حسین کے مطابق مقامی میڈیکل کالج میں جونیئر ڈاکٹرون کو سالوں سے تنخواہ حاصل نہیں ہو سکی ہیں اور وہ کئی مرتبہ دھرنا دے چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی طرف سے ہر کوشش کر کے دیکھ لی ہے۔ کئی دوسرے میڈیکل کالجوں میں بھی اسی طرح کی صورت حال ہے مگر آئی ایم اے نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی۔

دراصل آئی ایم اے کے خلاف سوش میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ 2018 کی شروعات میں احمد آباد میں بھی ایک ڈاکٹر کی پٹائی کی گئی تھی لیکن اس وقت وہاں کے ڈاکٹر ہڑتال پر نہیں گئے تھے جبکہ کولکاتا میں واقعہ ہونے کے فوری بعد گجرات کے ڈاکٹر ہڑتال پر چلے گئے۔
خاتون ڈاکٹروں کی پٹائی پر بھی آئی ایم اے خاموش رہی ہے۔ مثلاً جے پور میں ایچ ڈی کاونڑیا استپال میں اسی مہینہ 5 جون کو خون لینے پہنچی ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ مار پیٹ کی گئی تھی۔ یہ واقعہ کولکاتا کے واقعہ سے کچھ روز ہی پرانا ہے لیکن اس پر بھی آئی ایم اے خاموش رہی۔

ریٹائرڈ میڈیکل آفیسر آر بی سنگھ کے مطابق آئی ایم اے ڈاکٹروں کے مفادات کے لئے جد و جہد کرنے والی تنظیم ہے اور اس کا مقصد ہونا بھی یہی چاہیے لیکن فی الحال تو یہی لگتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر رہ گئی ہے۔

Published: 23 Jun 2019, 9:10 PM