مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کا معاملہ، سپریم کورٹ میں 16 اکتوبر کو سماعت
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کے معاملے پر سپریم کورٹ 16 اکتوبر کو سماعت کرے گی۔ ٹریبونل میں 1.70 لاکھ اپیلیں زیر التوا ہیں، نومبر میں بلدیاتی انتخابات ہونے ہیں

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے بعد ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے لیے 16 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالت میں ان درخواستوں کے جلد از جلد فیصلے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ متاثرہ ووٹر نومبر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر سکیں۔
مغربی بنگال حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ایس آئی آر سے متعلق اپیلیٹ ٹریبونل کے سامنے تقریباً 1.70 لاکھ اپیلیں زیر التوا ہیں، جب کہ ریاست میں نومبر کے دوران بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ حکومت کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران صرف 1.20 لاکھ معاملات کا ہی تصفیہ کیا جا سکا ہے۔
عدالت میں یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے دائر ایک لاکھ سے زیادہ اپیلوں پر فیصلہ سنایا جا چکا ہے۔ ان میں سے تقریباً 93 فیصد درخواست گزاروں کو ووٹ دینے کا اہل پایا گیا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر عدالت میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ جن علاقوں میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں، وہاں ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کی اپیلوں کو ترجیح دی جائے۔
عدالت اس پہلو پر بھی غور کرے گی کہ جن ووٹروں کی اپیلوں پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے، کیا انہیں نومبر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے بعد ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے کے معاملے میں 5 افراد نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ اپیلیٹ ٹریبونل کو ان کی درخواستوں پر جلد فیصلہ سنانے کی ہدایت دی جائے، تاکہ وہ نومبر میں ہونے والے کولکاتا اور ہاوڑہ کے بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے ذریعے دائر درخواست میں عرضی گزاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کوئی نوٹس دیے بغیر ووٹر لسٹ سے ان کے نام ہٹا دیے گئے۔ درخواست گزاروں کا مطالبہ ہے کہ ان کی اپیلوں کا بروقت تصفیہ کیا جائے، تاکہ انتخابی عمل میں حصہ لینے کے ان کے حق کا تحفظ ہو سکے۔
ایس آئی آر سے متعلق اپیلوں کے تصفیے میں تاخیر ایسے وقت میں اہمیت اختیار کر گئی ہے، جب مغربی بنگال میں نومبر میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے زیر التوا اپیلوں کا فیصلہ کس تیزی سے کیا جا سکتا ہے اور کیا ان اپیلوں پر فیصلے سے پہلے متعلقہ ووٹروں کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ اب اس معاملے پر 16 اکتوبر کو سماعت کرے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
