کلکتہ یونیورسٹی کی تقریب میں پہنچے گورنر کے خلاف نعرہ بازی، بغیر شرکت واپس

کلکتہ یو نیورسٹی کے ذریعہ منعقد تقریب برائے تقسیم اسناد میں شریک ہونے پہنچے گورنر جگدیپ دھنکر کو دیکھ کر طلبا نے سی اے اے اور گورنر کے خلاف نعرہ بازی شروع کر دی جس کی وجہ سے انھیں واپس لوٹنا پڑا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

کولکاتا: کلکتہ یونیورسٹی کے سالانہ کنووکیشن میں شرکت کیلئے پہنچے مغربی بنگال کے گورنر جگدیپ دھنکر طلباء کے سخت احتجاج اور نعرے بازی کی وجہ سے کنووکیشن میں شرکت کیے بغیر واپس چلے گئے۔ گورنر جب نذرل منچ جہاں یہ سالانہ کنووکیشن ہونے والا تھا ، پہنچے تو طلباء نے ان کی کار کا محاصرہ کیا اور واپس جاؤ کے نعرے بازی کرنے لگے۔پولس اور گورنر کے سیکورٹی گارڈ کی سخت چوکسی کے باوجود گونرر کی کار تک طلباء پہنچ گئے تھے اور شہریت ترمیمی ایکٹ اور گورنر کے خلاف نعرے بازی کا سلسلہ جاری رہا۔

طلباء کے سخت رویے کی وجہ سے گورنر نے اسٹیج پر جانے کے بجائے منچ کے ویٹنگ روم میں جاکر وائس چانسلر اور ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازے جانے والے نوبل انعام یافتہ ابھیجیت بنرجی سے ملاقات کی اور اعزازی ڈگری پر دستخط بھی کیے۔بعد میں گورنر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایاکہ میں ابھیجیت بنرجی کا خیال رکھتے ہوئے کنووکیشن میں شرکت کیے بغیر واپس جارہا ہوں، وائس چانسلر نے سرٹیفکٹ پر دستخط کرنے کی درخواست کی جسے میں نے قبول کرلیا۔گورنر نے لکھا کہ یہ میرے لیے ابھیجیت بنرجی اور ان کی والدہ کا استقبال کرنا یادگار لمحہ تھا۔


گورنر نے کہا کہ جن لوگوں نے غیر شائستگی کا مظاہرہ کیا ہے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔یہ بنگال کے کلچر کے خلاف ہے۔انہیں اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے۔ گورنر جگدیپ دھنکر پولس اور سیکورٹی گارڈ کے حفاظتی انتظامات کی وجہ سے اسٹیڈیم کے روم تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے مگر آڈیٹوریم میں بڑی تعداد میں طلباء ان کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اور اس کی وجہ سے سالانہ کنووکیشن تاخیر سے شروع ہوا۔وائس چانسلر بار بار طلباء سے پرسکون رہنے کی اپیل کرتی ہوئی نظرآئیں۔گورنر کے جانے کے بعد کنووکیشن شروع ہوا اور نوبل انعام یافتہ ابھیجیت وینائک بنرجی کو ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔

احتجاج کرنے والے طلباء کا کہنا تھا کہ جب تک گورنر یہاں سے نہیں جائیں گے اس وقت تک پروگرام کو شروع ہونے نہیں دیا جائے گا۔احتجاج کررہے طلباء کے ہاتھوں میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آرسی مخالف بینر اور پلے کارڈ تھے۔ وائس چانسلر سونالی چکرورتی بنرجی نے طلباء سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نوبل انعام یافتہ ابھجیت بنرجی ہمارے درمیان پہنچ چکے ہیں۔وہ ہمارے معزز مہمان ہیں اگر آپ اسی طرح ہنگامہ آرائی کرتے رہے تو ہمارے لیے پروگرام شروع کرنا ناممکن ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔