ممتا ہوئیں وی آئی پی، بنگال حکومت نے 2.5 کروڑ روپے کرائے پر لیا خصوصی چارڈر طیارہ

طیارے کے ساتھ دو پائلٹ، ایک انجینئر اور فلائٹ اٹینڈنٹ بھی ہیں۔ ریاستی حکومت کو ان کی تنخواہیں الگ سے ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

گجرات، مہاراشٹر اور اتر پردیش کے بعد اب مغربی بنگال کی ممتا بینرجی حکومت کے پاس بھی ایک خصوصی طیارہ ہوگا۔ ممتا حکومت نے وی آئی پیز کے لیے دس سیٹوں والا طیارہ کرائے پر لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے ریاست میں وی آئی پیز کے لیے دس سیٹوں والا طیارہ کرائے پر لیا ہے۔ چارٹرڈ طیارہ فرانسیسی کمپنی گیزلٹ کے ذریعہ تیار کردہ ہے۔ فالکن 2000 ایک جڑواں انجن والا طیارہ ہے۔ ہوائی کرایہ پر ریاست کو 2.5 کروڑ روپے ماہانہ لاگت آئے گی۔ طیارے کو دہلی کی ایک کمپنی سے کرایہ پر لیا گیا ہے۔

معاہدے کے مطابق ہر ماہ کم از کم 45 گھنٹے پرواز کرنا ہوگا۔ اگر پرواز مہینے میں 45 گھنٹے سے کم ہوتی ہے تو بھی 45 گھنٹے کا کرایہ ادا کرنے ہوں گے۔ اور اگر یہ اس سے زیادہ ہے تو آپ کو ہر گھنٹے میں پانچ لاکھ روپے ادا کرنے ہوں گے۔ طیارے کے ساتھ دو پائلٹ، ایک انجینئر اور فلائٹ اٹینڈنٹ بھی ہیں۔ ریاستی حکومت کو ان کی تنخواہیں الگ سے ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔


اگرچہ طیارے کو کرائے پر لینے کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، لیکن طیارہ ابھی کلکتہ نہیں پہنچا ہے۔ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ستمبر کے شروع میں شمالی بنگال کا دورہ کرنے والی ہیں۔اسی طیارے سے ممتا بنرجی شمالی بنگال جا سکتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طیارہ 2024 تک کوکتہ ہوائی اڈے پر رہے گا۔

اس سے پہلے ملک کی مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے اپنے استعمال کیلئے طیارے کرایہ پر لے چکے ہیں۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی 12 سیٹوں والے بمبارڈیئر طیارے کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر اور اتر پردیش کے وزرائے اعلیٰ بھی اپنے طیارے استعمال کرتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔