مغربی بنگال: 14 فروری کو جاری نہیں ہوگی ’ایس آئی آر‘ کی حتمی لسٹ، سپریم کورٹ نے ایک ہفتے کی توسیع کا دیا حکم

سپریم کورٹ نے ڈی جی پی سے ایس آئی آر ڈیوٹی میں شامل افسران کے خلاف دھمکیوں اور تشدد کے متعلق الیکشن کمیشن کے حلف نامے پر جواب دینے کے لیے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی بنگال میں ایس آئی آر عمل کے بعد حتمی ووٹر لسٹ اب 14 فروری کو جاری نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے مغربی بنگال ایس آئی آر معاملے میں دستاویزات کی تحقیقات اور حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت کے لیے 14 فروری کی آخری تاریخ میں ایک ہفتے کی توسیع کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے مغربی بنگال کے ڈی جی پی سے ذاتی حلف نامہ بھی طلب کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ڈی جی پی سے ایس آئی آر ڈیوٹی میں شامل افسران کے خلاف دھمکیوں اور تشدد کے متعلق الیکشن کمیشن کے حلف نامے پر جواب دینے کے لیے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔ سی جے آئی سوریہ کانت نے پیر کو کہا کہ ایس آئی آر میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بیان مغربی بنگال میں ایس آئی آر عمل کو چیلنج دینے والی کئی عرضیوں کی سماعت کے دوران دیا۔ جب دونوں فریق بحث کر رہے تھے تو سی جے آئی نے کہا کہ جس بھی حکم یا وضاحت کی ضرورت ہوگی، ہم جاری کریں گے۔ لیکن ہم ایس آئی آر میں کوئی روکاٹ نہیں آنے دیں گے۔ یہ بات تمام ریاستوں کو سمجھنی چاہیے۔


سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ اس پر وزیر اعلیٰ نے بیان دیا ہے کہ وہ ریاستی حکومت کے ان افسران کو فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں جو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل ہیں۔ تعمیل حکم میں یہ کہا گیا ہے کہ 7 فروری کو ایک وکیل نے الیکشن کمیشن کو مطلع کیا کہ ریاستی حکومت ایس آئی آر کے لیے ریاستی حکومت کے 8500 افسران کو فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

سماعت کے دوران مغربی بنگال حکومت کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا کہ 8505 گروپ بی افسران کی فہرست الیکشن کمیشن کو نہیں بھیجی گئی تھی، کیونکہ وہ کمیشن کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔ اب یہ فہرست الیکشن کمیشن کے وکیل نائیڈو کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اسے ہمارے سامنے ریکارڈ پر بھی رکھ دیا گیا ہے۔


ایس آئی آر کے جاری عمل کو منظم کرنے اور ظاہر کیے جانے والے کچھ خدشات کو دور کرنے کے لیے ’مغربی بنگال ایس آئی آر‘ پر سپریم کورٹ کی درج ذیل ہدایات:

  • ریاستی حکومت یہ یقینی بنائے کہ فہرست میں مذکور تمام 8505 گروپ بی افسران کل شام 5 بجے تک ڈی ای او یا ای آر او کو ڈیوٹی کے لیے رپورٹ کریں۔

  • سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ الیکشن کمیشن کو موجودہ ای آر او اور اے ای آر او کو تبدیل کرنے اور اہل پائے جانے پر ان کی خدمات حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

  • ان ریاستی سرکاری افسران کے بائیو ڈیٹا کی مختصر جانچ کے بعد انہیں مائیکرو آبزرور کے طور پر کام کرنے کے لیے ایک یا دو دن کی مختصر تربیت دی جا سکتی ہے۔

  • مائیکرو آبزرور یا ریاستی سرکاری افسران کو سونپی گئی ذمہ داری صرف ای آر او کی مدد کرنا ہوگی، کیونکہ حتمی فیصلہ ای آر او کا ہی ہوگا۔

  • چونکہ سرکاری افسران کا ایک نیا گروپ شامل کیا گیا ہے، اس لیے متاثرہ افراد کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات کی جانچ کے عمل میں مزید وقت لگنے کا امکان ہے۔ عرضی گزاروں میں سے کچھ کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کے مطابق ہم ہدایت دیتے ہیں کہ ای آر او کو جانچ مکمل کرنے اور فیصلہ کرنے کے لیے 14 فروری کے بعد ایک ہفتے کا اضافی وقت دیا جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔