بنگال اسمبلی سے بھی ’شہریت ترمیمی قانون‘ کے خلاف قرارداد پاس کرائی جائے گی :ممتا

مہاراشٹر کی ’مہاوکاس اگھاڑی حکومت بھی اس طرح کی ریزولیشن لانے پر غور کررہی ہے۔اس کے علاوہ مدھیہ پردیش اور چھتس گڑھ حکومت بھی جلد اس طرح کی قرارداد ریاستی اسمبلی سے پاس کرا سکتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج کہا ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی سے بھی ”شہریت ترمیمی ایکٹ“ کے خلاف جلد ہی ریزولیشن پاس کیا جائے گا۔ ترنمول کانگریس کی سپریمو ممتا بنرجی جو شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آرسی کی شدید مخالفت کررہی ہیں نے دوسری ریاستوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ریزولیشن پاس کریں۔

کیرالہ کی سی پی ایم حکومت اور پنجاب کی کانگریس حکومت نے پہلے ہی شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ریزولیشن پاس کرچکی ہے۔ تاہم راجستھان کی کانگریس حکومت نے بھی شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف 24جنوری کو ریزولیشن پاس کرانے کا اعلان کیا ہے۔

مہاراشٹر کی کی مہاوکاش آگاڑی حکومت بھی اس طرح کی ریزولیشن لانے پر غور کررہی ہے۔اس کے علاوہ مدھیہ پردیش اور چھتس گڑھ بھی اس پر غور کررہی ہے۔سینئر کانگریسی لیڈر احمد پٹیل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر ریاستوں میں بھی پنجاب کی طرز پر شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ریزولیشن پاس کرایا جائے گا۔

ریاستی حکومتوں کے ذریعہ شہریت ترمیمی ایکٹ پر پاس کیے جارہے ریزولیشن پر مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ یہ غیر آئینی قدم ہے اور یہ ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعہ پاس قوانین کی پاسداری کریں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں بنگال اسمبلی نے این آر سی کے خلاف ریزولیشن پاس کراتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی صورت میں بنگال میں این آر سی کو نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔اسی مہینے بنگال اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں ممتا بنرجی شہریت ترمیمی ایکٹ پر خصوصی ریزولیشن پاس کرانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم پہلے ہی اس معاملے میں ایک ریزولیشن پاس کرچکے ہیں۔

Published: 20 Jan 2020, 5:11 PM