آ گیا شادی کا سیزن! بازاروں کی رونق ہوگی بحال، دہلی میں 3 لاکھ کروڑ روپئے کے ممکنہ کاروبار کے لیے تاجر پُرامید

موجودہ جنگ اور کشیدگی کے ماحول سے متاثرہ چاندنی چوک، صدر بازار اور کرول باغ جیسے علاقوں میں کپڑے، زیورات، مٹھائی، تحائف اور آرائشی سامان فروخت کرنے والی دکانوں پر بھیڑ بڑھنے کی امید کی جارہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>دہلی کا بازار / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور جنگ کی وجہ سے تقریباً 2 ماہ سے ملک کے بازار میں ماتم کا ماحول ہے۔ تاجروں کے کاروبار متاثر ہوئے اور فروخت میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی۔ ان حالات میں اب امید کی کرن نظر آرہی ہے۔ اتوار کو ’اکشے ترتیا‘ کے ساتھ شادی کا سیزن شروع ہو رہا ہے جس کی وجہ سے تاجروں کو خاصی راحت ملنے کی امید کی جا رہی ہے۔

قومی راجدھانی علاقہ (این سی آر) اور ملک بھر میں 19 اپریل سے 13 جولائی تک شادیوں کی 28 تاریخیں نیک (شُبھ) مانی گئی ہیں۔ اس عرصے کے دوران لاکھوں جوڑے شادی کے بندھن میں بندھیں گے جس کی وجہ سے متعلقہ کاروبار سے وابستہ لوگوں کے چہروں پر خوشیاں صاف جھلک رہی ہیں۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) کے چیئرمین برجیش گوئل کے مطابق اس سال ملک بھر میں تقریباً 35 لاکھ شادیاں ہوں گی جس سے تقریباً 3 لاکھ کروڑ روپئے کا کاروبار ہوسکتا ہے۔ وہیں دہلی میں تقریباً 3 لاکھ شادیوں سے 50 ہزار کروڑ روپے کے کاروبار کا اندازہ ہے۔


شادی سیزن کے سلسلے میں بازاروں میں ابھی سے رونق اور امیدیں پروان چڑھنے لگی ہیں۔ راجدھانی دہلی کے چاندنی چوک، صدر بازار، کرول باغ، لاجپت نگر، سروجنی نگر اور راجوری گارڈن جیسے علاقوں میں کپڑے، زیورات، مٹھائی، تحائف اور آرائشی سامان فروخت کرنے والی دکانوں پر لوگوں کی بھیڑ بڑھنے کی امید کی جارہی ہے اور لوگ شادی کی خریداری کے لیے گھروں سے نکلنا شروع ہوگئے ہیں۔

سی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر دیپک گرگ اور نائب صدر راہل ادالکھا کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جی ایس ٹی میں تبدیلی کے بعد لوگوں کی خریداری کی عادات بدل گئی ہیں۔ اب لوگ غیر ملکی اشیاء کے بجائے ہندوستانی مصنوعات زیادہ خرید رہے ہیں۔ اس سے ملک میں کاریگروں، جیولرس اور چھوٹے کاروباروں کو اچھا روزگار مل رہا تھا لیکن جنگ نے کاروبار کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے اور کئی شعبے کساد بازاری کا سامنا کررہے ہیں۔


ایک اندازے کے مطابق شادی کے اس سیزن میں 50 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو روزگار ملنے کا امکان ہے۔ اس میں ٹینٹ ہاؤس، کیٹرنگ، پھولوں کی سجاوٹ، ٹرانسپورٹ، ہوٹل اور فوٹو گرافی سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ ٹیکسٹائل، زیورات، دستکاری اور پیکیجنگ جیسی چھوٹی صنعتوں کو بھی فائدہ ہونے کی امید ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شادیوں کے دوران سب سے زیادہ خرچ کپڑوں اور زیورات پر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کھانے، سجاوٹ، بینکویٹ ہال، لائٹ، ساؤنڈ اور دیگر پر بھی خرچ ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ ہندوستان میں شادیوں کا سیزن ہر سال بازار کے لیے نئی ​​امید کی کرن لے کرآتا ہے۔ شادیاں، خاص طور پر ’اکشے ترتیا‘ جیسے ’نیک ایام‘ میں انتہائی مبارک مانی جاتی ہیں۔ اس دوران سونا خریدنا اور نیا کام شروع کرنے کی بھی روایت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ جنگ اور بحران کے دوران بھی کاروباری اس موقع کا انتظار کررہے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ شادی کا یہ سیزن بازار کو بحال کر دے گا اور پہلے سے جنگ کی وجہ سے کساد بازاری کا سامنا کررہے تاجروں کو راحت فراہم کرے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔