موسم کے تیور ہوئے سخت، دہلی میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کا انتباہ، دن میں ہونے لگی تپش

صفدرجنگ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 2.1 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ راجدھانی میں اب معمول سے زیادہ گرمی محسوس ہونے لگی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>درجہ حرارت کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کئی روز تک وقف وقفہ سے ہونے والی بارش اور گرج چمک کے بعد دہلی میں موسم تقریباً مکمل طورپر تبدیل ہوگیا ہے۔ گرمی میں اب تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے دن میں تپش شروع ہوگئی ہے۔ اپریل کے اوائل میں ہلکی سردی کا احساس کرانے والا موسم اب مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی درجہ حرارت میں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے۔ منگل کو صفدرجنگ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 2.1 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ راجدھانی میں اب معمول سے زیادہ گرمی محسوس ہونے لگی ہے۔

راجدھانی کے مختلف حصوں میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ پالم میں 37.6  سینٹی گریڈ، لودھی روڈ 38.1 ، آیا نگر 37.8  اور رج علاقے میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 39.5 سینٹی گریڈ درج کیا گیا۔ رج علاقے میں خاص طور پر درجہ حرارت معمول سے 3.2 سینٹی گریڈ زیادہ رہا جس سے وہاں گرمی کا اثر زیادہ شدید محسوس کیا گیا۔


اگرچہ دن کے وقت گرمی رفتہ رفتہ بڑھ رہی ہے لیکن رات کو پھر بھی قدرے راحت محسوس کی جارہی ہے۔ رات کے وقت صفدرجنگ میں کم سے کم درجہ حرارت 18.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 2.8 ڈگری کم ہے۔ اسی طرح پالم، لودھی روڈ، رج اور آیا نگر میں بھی رات کا درجہ حرارت معمول سے کم رہا۔ اس کا مطلب ہے کہ راجدھانی میں راتیں ابھی پوری طرح سے گرم نہیں ہوئی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوگا۔ بدھ تک زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے جبکہ رات کا درجہ حرارت بھی 20 ڈگری سیلسیس کے آس پاس رہنے کا امکان ہے۔ مزید برآں ہفتے کے آخر تک دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر سکتا ہے، جس سے گرمی مزید شدت اختیار کر جائے گی۔


دریں اثنا قومی راجدھانی میں ہوا کا معیار بھی بہت بہتر نہیں ہے. حالیہ بارش کی وجہ سے فضائی معیار بہتر ہونے کے بعد اب ایک بار پھر دھیرے دھیرے فضائی معیار بگڑتا نظر آرہا ہے۔ اس دوران ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 167  درج کیا گیا ہے جو ’درمیانہ‘ زمرے میں آتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہوا مکمل طور پر صاف نہیں ہے لیکن اسے بہت برا بھی نہیں سمجھا جارہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔