’تمل ناڈو کی ساڑی تو پہنی، لیکن امریکی ٹیرف پر خاموش رہیں‘، مرکزی بجٹ پر پرینکا چترویدی کا ردعمل
پرینکا چترویدی نے نرملا سیتا رمن پر طنز کستے ہوئے کہا کہ انہوں نے بجٹ کے لیے ساڑی تو تمل ناڈو کی پہنی تھی، لیکن وہ امریکی ٹیرف پر خاموش رہیں، جہاں کے لوگوں پر اس کا سب سے زیادہ اثر پڑا ہے۔

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک کا بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے۔ اس پر شیو سینا یو بی ٹی کی جانب سے پہلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ راجیہ سبھا رکن پرینکا چترویدی نے نرملا سیتا رمن پر طنز کستے ہوئے کہا کہ انہوں نے بجٹ کے لیے ساڑی تو تمل ناڈو کی پہنی تھی، لیکن وہ امریکی ٹیرف پر خاموش رہیں، جہاں کے لوگوں پر اس کا سب سے زیادہ اثر پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی کے ذریعہ کیے گئے وعدے کے مطابق بجٹ میں بڑی اصلاحات کی امید تھی، لیکن بجٹ مایوس کن رہا۔ عالمی اُتھل پُتھل کو مد نظر رکھتے ہوئے ہندوستان کے نظریہ کو واضح کرنے کے مقصد سے لایا گیا یہ بجٹ اپنی منزل سے بھٹک گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر انہوں نے لکھا کہ ’’جیسا کہ اندازہ تھا، وزیر خزانہ نے تمل ناڈو کی ہینڈ لوم ساڑی پہنی تھی (انتخابی ریاست کو مد نظر رکھتے ہوئے)، لیکن تروپور اور دیگر علاقوں میں امریکی ٹیرف کے بھاری اثرات پر انہوں نے خاموشی اختیار کر رکھی تھی، جہاں ہندوستان کے دنیا میں سب سے زیادہ ٹیرف والا ملک بنے رہنے کی وجہ سے نقصان ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوتے روپے کہ متعلق لکھا کہ ’’کمزور ہوتے روپے کی وجہ سے ہندوستانی درآمد کنندگان کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے اور ان کی پریشانی کم کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ بے روزگاری، روزگاری کی فراہمی اور کم روزگاری جیسے مسائل پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔‘‘
پرینکا چترویدی نے مزید لکھا مہنگائی اور مستحکم آمدنی پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اسٹارٹ اپ، تکنیکی جدت اور تحقیق کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ہے۔ کسانوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، زرعی ٹیکنالوجی، فوڈ سپلائی چین، اسٹوریج، آسان قرض اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگی جیسے مسائل پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ اصلاحات کے ذریعے جمود کا شکار مینوفیکچرنگ سیکٹر کو رفتار دینے کی کوشش واضح طور پر غائب ہے۔ آخر میں انہوں نے مرکزی حکومت پر طنز کستے ہوئے لکھا ’بجاؤ تالی‘۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔