حکومت سے اینٹی ڈیفیکشن قانون میں تبدیلی کی درخواست کریں گے: لوک سبھا اسپیکر

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے یہ قبول کیا کہ اینٹی ڈیفکشن ایکٹ کے تحت معاملے کا فیصلہ ایک مقررہ مدت کے اندر ہونا چاہیے اور وہ حکومت سے اینٹی ڈیفکشن ایکٹ میں ترمیم کرنے کی درخواست کریں گے۔

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، تصویر یو این آئی
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے آج کہا کہ اینٹی ڈیفیکشن قانون کے تحت ایک مقررہ مدت کے اندر فیصلہ ہونا چاہیے اور وہ حکومت سے قانون میں ترمیم کی درخواست کریں گے۔ برلا نے یہ بات پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں یہاں پریس کانفرنس میں کہی۔ اینٹی ڈیفیکشن ایکٹ کے تحت ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ کو دیئے گئے نوٹس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں اوم برلا نے بتایا کہ یہ ایوان کی کارروائی سے متعلق فیصلہ ہے جس کا پریس کانفرنس میں جواب نہیں دیا جاسکتا۔

تاہم، لوک سبھا اسپیکر نے یہ بات قبول کی کہ اینٹی ڈیفکشن ایکٹ کے تحت معاملے کا فیصلہ ایک مقررہ مدت کے اندر ہونا چاہیے اور وہ حکومت سے اس ضمن میں (اینٹی ڈیفکشن ایکٹ) ترمیم کرنے کی درخواست کریں گے۔ مانسون پارلیمنٹ کے اجلاس کے بارے میں اوم برلا نے بتایا کہ سیشن 19 جولائی سے 13 اگست تک چلے گا۔ کل 19 نشستیں ہوں گی اور ایوان کی کارروائی صبح 11 بجے سے شام 6 بجے تک جاری رہے گی۔ 17 ویں لوک سبھا کی پیداوری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1952 سے اب تک، تمام لوک سبھا کے پہلے پانچ سیشنوں میں اتنا کام نہیں ہو سکا ہے جو 17 ویں لوک سبھا کے پہلے پانچ اجلاسوں میں ہوا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔