’ہم مظفر نگر سے بچھڑے تھے، مظفر نگر سے ہی جڑیں گے‘، جاٹ-مسلم طبقہ کا عزم

مسجد کے دروازے کسانوں کے لیے کھول دیئے جانے سے لے کر مسلم اکثریتی علاقوں میں لنگر لگانے اور راکیش ٹکیت کے اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو کے نعرے لگانے سے مظفر نگر کی فضا پوری طرح بدل گئی ہے۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد
user

آس محمد کیف

45 سال کے محمد حسن اس شہر مظفر نگر کے سب سے مشہور چوک ’میناکشی‘ سے دہلی جانے والے راستہ پر جی ٹی روڈ کے کنارے واقع مسجد ’تکیہ والی‘ کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں۔ محمد حسن کی آج کل خوب تعریف ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی ہی مسجد نے 4 ستمبر کی شب سڑک پر بھٹک رہے کسانوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیئے تھے اور اس کے بعد سینکڑوں کسانوں نے نہ صرف مسجد میں پناہ لی، بلکہ یہاں انھیں کھانا بھی کھلایا گیا۔ ان کسانوں کے ساتھ کچھ خواتین بھی تھیں۔

’ہم مظفر نگر سے بچھڑے تھے، مظفر نگر سے ہی جڑیں گے‘، جاٹ-مسلم طبقہ کا عزم

محمد حسن ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ دیر رات تقریباً ایک بجے کا واقعہ ہے جب اس وقت مسجد کے باہر کچھ کسان سڑک پر نیچے ہی بیٹھ گئے تھے۔ ان میں سکھ سماج کے لوگ تھے، جن کے ساتھ کچھ خواتین بھی تھیں۔ میں سمجھ گیا تھا کہ یہ کسان مہاپنچایت میں شرکت کرنے آئے ہیں۔ شہر میں بہت بھیڑ ہے اور خواتین کی وجہ سے انھیں زیادہ پریشانی ہے۔ میں نے اس کے لیے مسجد کمیٹی کے لوگوں سے بات کی اور فیضان انصاری، امیر اعظم اور دلشاد پہلوان نے مجھے انھیں پناہ دینے کے لیے مشورہ دیا۔ اس کے فوراً بعد مسجد کمیٹی کے یہ ساتھی مسجد میں آ گئے اور کسانوں سے گزارش کر کے مسجد میں اندر بلا لیا گیا۔ اس وقت یہ 60-50 کسان تھے جن میں تقریباً 7 خواتین تھیں۔ رات میں 2 بجے مسجد پوری طرح سے کھول دی گئی اور سینکڑوں کسان یہاں آرام کے لیے پہنچے۔

’ہم مظفر نگر سے بچھڑے تھے، مظفر نگر سے ہی جڑیں گے‘، جاٹ-مسلم طبقہ کا عزم

مسجد کے انتظامیہ فیضان انصاری بتاتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ اندازے سے بہت زیادہ بھیڑ پہنچ گئی۔ 5 ستمبر کو کسانوں کی بھیڑ کے سبب پیدا پریشانیوں کو کو دنیا نے دیکھا، لیکن اس سے بھی مشکل حالات ایک دن پہلے پیدا ہو گئے تھے۔ ایک لاکھ سے زیادہ ہریانہ، پنجاب اور راجستھان کا کسان 4 ستمبر کی رات میں ہی یہاں آ گیا تھا جس کا کنوینر کو اندازہ بھی نہیں تھا، کیونکہ غالباً 50 ہزار کسان کی تیاری کی گئی تھی۔ اب یہ ہمارے مہمان تھے تو ہم نے اپنی طرف سے یہ کوشش کی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر گرودوارے بھی ہمارے لیے ایسا کرتے ہیں۔ آج ان کے لیے ہم نے یہ کیا۔ فیضان بتاتے ہیں کہ ان میں کچھ ہریانہ کے جیند باشندہ جاٹ کسان بھی تھے۔ ان میں سے کچھ نے تو بھگوا رنگ کا گمچھا بھی پہنا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک نے کہا بھی کہ آج اس کی مسلمانوں کے تئیں سوچ پوری طرح بدل گئی۔

’ہم مظفر نگر سے بچھڑے تھے، مظفر نگر سے ہی جڑیں گے‘، جاٹ-مسلم طبقہ کا عزم

صبح فجر میں نماز پڑھنے پہنچے مقامی شہری امیر اعظم نے بتایا کہ 5 ستمبر کی صبح جب وہ نماز پڑھنے پہنچے تو انھوں نے ایک حیرت انگیز نظارہ دیکھا کہ جب اندر والے کمرے میں مسلم طبقہ کے لوگ نماز ادا کر رہے تھے تو یہ کسان بھائی کعبے کی طرف رخ کر کے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو گئے اور دھیان لگانے لگے۔ ایک اور مقامی شہری دلشاد پہلوان نے ان کسانوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا اور انھیں مظفر نگر کی مشہور تہری کھلائی گئی۔ یہ مرچ کے چاول ہوتے ہیں۔ دلشاد بتاتے ہیں کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ اذان کے وقت ہریانہ اور پنجاب کے یہ کسان فوراً کھڑے ہو جاتے تھے اور اذان کے بعد بیٹھ جاتے تھے۔ یہ ان کے ذریعہ دی جانے والی عزت تھی۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی خیال رکھا کہ ان کے سر کعبے کی طرف ہی ہوں۔ ایک کسان نے انجانے میں پیر کعبہ کی طرف کر لیا تو دوسرے نے اسے کہا کہ ’’اس سمت میں کعبہ ہوتا ہے، پیر مت کرو!‘‘

’ہم مظفر نگر سے بچھڑے تھے، مظفر نگر سے ہی جڑیں گے‘، جاٹ-مسلم طبقہ کا عزم

مظفر نگر جیسے اُبال مارتے خون کے شہر میں مسجد میں الگ مذہب کے کسانوں کے لیے (ان میں بیشتر جاٹ طبقہ کے لوگ تھے) دروازے کھول دینا ایک دن میں آئی تبدیلی نہیں ہے۔ شہر کے سماجی خدمت گار راشد علی بتاتے ہیں کہ اس شہر کو احساس ہو گیا ہے کہ 8 سال قبل ہوا فساد ایک سیاسی سازش تھی۔ ہر کوئی اس غلطی کے لیے شرمسار ہے، جاٹ اور مسلمان دونوں ایک دوسرے سے قریب آنا چاہتے ہیں۔ دونوں ہی طبقات اس داغ کو مٹانا چاہتے ہیں۔

’ہم مظفر نگر سے بچھڑے تھے، مظفر نگر سے ہی جڑیں گے‘، جاٹ-مسلم طبقہ کا عزم

یہ بات اس لیے بھی درست لگتی ہے کہ مظفر نگر کی جانب جانے والے بجنور راستہ پر شیرپور، نرانا اور بہادر پور جیسے 10 کلو میٹر کی دوری پر سڑک کنارے مسلم اکثریتی آبادی کے گاؤں کے باہر کسانوں کے لیے لنگر لگائے گئے۔ یہ لنگر اسی گاؤں کے مسلمانوں نے لگائے۔ سکھیڑا اور نگلا مندوڑ اور کوال گاؤں بھی اسی راستے پر ہیں۔ 2013 میں جس نگلا مندوڑ کی پنچایت کے بعد فساد بھڑکا تھا، 5 ستمبر کو اسی گاؤں کے شرن ویر چودھری اور نواز خان نے مل کر کسانوں کے لیے پوری اور سبزی کا ڈھابہ لگایا جس میں 10 ہزار کسانوں نے کھانا کھایا۔ مظفر نگر-جانسٹھ بس اڈے پر لگائے گئے اسی ڈھابہ پر شرن ویر چودھری اور نواز خان دونوں نے ہم سے بتایا کہ ’’لڑتے تو بھائی بھائی بھی ہیں، مگر وہ ہمیشہ کے لیے الگ نہیں ہوتے‘‘۔ شیرپور گاؤں میں بہسوما سے آ رہے کسانوں کے لیے مسلمانوں نے حلوہ اور پھل تقسیم کیا تو ٹریکٹر میں سوار بہسوما کے پروندر نے بتایا کہ انگریزوں کی طرز پر پھوٹ ڈال کر کسانوں میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر آج ہم پھر سے ایک ہو گئے ہیں۔ اتفاق دیکھیے کہ جس شیرپور گاؤں کے باہر جاٹوں کا پانی، پھل اور حلوے سے استقبال کیا جا رہا تھا، 2013 کے فساد میں اسی گاؤں پر پنچایت سے لوٹ رہے ٹریکٹر پر پتھراؤ کرنے کا الزام تھا۔ کسانوں کی مظفر نگر کی یہ پنچایت فسادات کا داغ دھونے اور مذہب و ذات سے اوپر اٹھ کر صرف کسان بنائے رکھنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ بہسوما کے پروندر کہتے ہیں کہ ’’ہم یہاں صرف کسان ہیں اور یہی ہماری ذات ہے، حکومت کسانوں پر زیادتی کر رہی ہے اور اب ہمیں اپنی کھیتی کو بچانا ہے، اب ہم بنٹیں گے نہیں، جو ہوا سو ہوا‘‘۔

’ہم مظفر نگر سے بچھڑے تھے، مظفر نگر سے ہی جڑیں گے‘، جاٹ-مسلم طبقہ کا عزم

مظفر نگر کے جانکار لوگ یہ سوچنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ راکیش ٹکیت نے آخر 5 ستمبر 2021 کی تاریخ کو مہاپنچایت کے لیے کیوں منتخب کیا۔ ایسا اس لیے کہا جا رہا ہے کہ 2013 مظفر نگر فسادات کی جس پنچایت کے بعد مظفر نگر میں فساد ہوا تھا، وہ پنچایت 7 ستمبر 2013 کو منعقد کی گئی تھی، مظفر نگر فسادات میں 50 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے تھے اور 68 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ یہ فساد مظفر نگر کی پیشانی پر ایک بڑا داغ ہے۔ مظفر نگر کے ہی گوہر صدیقی کہتے ہیں کہ اسی داغ کو دھونے کے لیے یہ مہاپنچایت منعقد کی گئی ہے۔

’ہم مظفر نگر سے بچھڑے تھے، مظفر نگر سے ہی جڑیں گے‘، جاٹ-مسلم طبقہ کا عزم

2013 کے بعد ہندوستانی کسان یونین کا بنٹوارا ہو گیا تھا اور وہ ایک بے حد کمزور تنظیم بن گئی تھی۔ آنجہانی چودھری مہندر سنگھ ٹکیت دنیا سے جا چکے تھے اور یہ بالکل ایسا تھا جیسے ٹکیت برادران نے اپنے والد سے ملی کسانوں کے اتحاد سے متعلق وراثت کو گنوا دیا ہو۔ یہاں تک کہ چودھری مہندر سنگھ ٹکیت کے سب سے قریبی ساتھی غلام محمد جولا بھی الگ ہو گئے، حالانکہ غلام محمد جولا یہ ضرور کہتے رہے کہ چودھری ٹکیت مظفر نگر فسادات کے دوران زندہ ہوتے تو یہ فساد ہی نہ ہوتا۔ غلام محمد وہی شخصیت ہے جو آنجہانی چودھری مہندر سنگھ ٹکیت کے ساتھ ’اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو‘ کا نعرہ ساتھ مل کر لگاتے تھے۔ کسان یونین کی یہ ایک روایت تھی اور 2013 فسادات کے بعد یہ روایت ٹوٹ گئی تھی۔ 5 ستمبر 2021 کی مہاپنچایت میں راکیش ٹکیت نے یہ نعرہ لگا کر نہ صرف اس روایت کو پھر سے زندہ کیا ہے بلکہ کسان اتحاد کے نام پر 36 برادریوں کو ساتھ لا کر اپنے والد کو سچی خراج عقیدت پیش کرنے کا کام کیا ہے۔ راکیش ٹکیت اپنے والد کے چار بیٹوں میں سے ایک ہیں، وہ اپنے والد کے ساتھ رہتے تھے۔ دہلی پولیس کی اپنی نوکری بھی انھوں نے اپنے والد کے لیے ہی چھوڑی تھی۔ ان کے بڑے بھائی نریش ٹکیت شروع سے ہی کھیتی سنبھالتے ہیں۔ نریش ٹکیت بالیان کھاپ کے چودھری بھی ہیں۔ راکیش ٹکیت نے چونکہ چودھری مہندر سنگھ ٹکیت کے ساتھ کافی وقت گزارا ہے اس لیے ان کے والد ان کے استاد بھی رہے ہیں۔ ٹکیت فیملی کا آنجہانی چودھری مہندر سنگھ ٹکیت کے ساتھ بے حد جذباتی رشتہ ہے۔ آج بھی چودھری مہندر سنگھ ٹکیت کے کمرے میں دیشی گھی میں جوت جلائی جاتی رہتی ہے اور ان کا بستر اور حقہ لگایا جاتا ہے۔ ان کے بڑے بیٹے نریش ٹکیت خود ایسا کرتے ہیں۔ چودھری مہندر سنگھ ٹکیت نے کسانوں کے جس اتحاد کو وراثت کے طور پر ٹکیت برادران کو سونپا تھا، اسے 2013 کے فسادات نے توڑ دیا تھا، لیکن 2021 کی کسان مہاپنچایت میں جونیئر ٹکیت نے اسے پھر سے جوڑ دیا ہے۔ سوچیے 9 مہینوں سے گھر نہیں لوٹنے والے راکیش ٹکیت کو اپنے والد کا وہ کمرہ کتنا یاد آ رہا ہوگا، جس میں وہ گھنٹوں اس احساس کے ساتھ بیٹھے رہتے ہیں کہ ان کے والد ان کے ساتھ ہیں!

’ہم مظفر نگر سے بچھڑے تھے، مظفر نگر سے ہی جڑیں گے‘، جاٹ-مسلم طبقہ کا عزم

مظفر نگر میں کسان اتحاد اس وقت بہت مضبوط ہو گیا ہے۔ اس میں سب سے بڑی بات جاٹ-مسلم اتحاد ہے۔ چھوٹے چھوٹے واقعات بھی اس کی مثال بن گئے ہیں۔ جیسے مقامی نوجوان وسیم منصوری بتاتے ہیں کہ اس مہاپنچایت میں جو کچھ انھوں نے دیکھا اس کا انھیں یقین نہیں ہوا، لیکن وہ خود گواہ ہیں۔ وسیم بتاتے ہیں کہ ایک دن پہلے میڈیا اہلکار کچھ لوگوں سے بات کر رہے تھے کہ ایک نوجوان نے ہتک آمیز انداز میں ’ملّا‘ لفظ بول دیا تو پاس میں کھڑے جاٹ نوجوان بری طرح ناراض ہو گئے اور قابل اعتراض لفظ بولنے والے نوجوان کو سبق سکھا دیا۔ وسیم بتاتے ہیں کہ اس کے بعد وہاں موجود کچھ مسلمانوں نے کسان یونین زندہ باد کے نعرے لگائے۔

’ہم مظفر نگر سے بچھڑے تھے، مظفر نگر سے ہی جڑیں گے‘، جاٹ-مسلم طبقہ کا عزم

مظفر نگر کے ہی اجے چودھری بتاتے ہیں کہ یہ بات بالکل درست ہے، مظفر نگر میں جاٹوں اور مسلمانوں میں کافی نزدیکی آ گئی ہے اور اب یہ اتحاد نہیں ٹوٹے گا اور یقیناً اس کا اثر سیاسی معاملوں میں بھی پڑے گا۔ اس بار دل بھی بالکل صاف لگتا ہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ راکیش ٹکیت نے کسانوں کو متحد کر دیا ہے۔ لیکن جاٹ مسلم اتحاد کے لیے آنجہانی چودھری اجیت سنگھ کی لگاتار کوشش حیرت انگیز رہی ہے، انھوں نے جب یہاں الیکشن لڑا تو مسلم طبقہ کے لوگوں نے انھیں یکطرفہ حمایت دی، لیکن وہ الیکشن ہار گئے۔ جاٹ سماج کے دل پر بھی اس بات نے اثر کیا ہے کہ چودھری اجیت سنگھ کے آخری وقت میں مسلمانوں نے ان کا ساتھ نبھایا تھا۔ امید ہے اب پھر جاٹ-مسلم اتحاد کا سنہری دور لوٹ آئے گا۔ ہم مظفر نگر سے ہی بچھڑے تھے، اور مظفر نگر سے ہی جڑیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔