ہمیں شدت سے جائزہ لینا چاہیے کہ مسلمان بری حالت میں کیوں ہیں: مولانا فضل الرحیم مجددی

مولانا مجددی نے نیتی آیوگ کے اعداد و شمار کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ انسانی ترقی کے ہر شعبے میں مسلمان اپنے برادران وطن سے پسماندہ ہیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

جے پور: مسلمانوں کے تمام شعبے میں زوال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جامعہ ہدایت جے پور کے سربراہ اور عبدالرحیم ایجوکیشنل ٹرسٹ کے چیرمین مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہا کہ ہمیں شدت سے اس وقت یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہم اس قدر برے حالات میں کیوں ہیں یہ بات انہوں نے گزشتہ دنوں انگلش میڈیم امام ربانی بپلک اسکول کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تعلیم و تمدن کا اس قدر جلوہ تھا کہ انگلینڈ کے بادشاہ جارج ثانی نے اپنے خاندان کی بچیوں کو ترکی کے خلیفہ کے پاس بھیجا تھا تاکہ وہ وہاں کی تہذیب و ثقافت سیکھ سکے، جو اس وقت وہاں رائج تھی۔ انہوں نے کہا کہ جو قوم اس وقت اتنے عروج پر تھی اور اس کے معیار اتنے بلند تھے وہ آخر اس قدر ہر شعبے میں نیچے کیوں گر گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام شعبے میں اعلی معیار کے ماہر افراد پیدا کئے اس کے باوجود یہ قوم پسماندہ کیسے ہوگئی۔

مولانا مجددی نے حکومت اور پلاننگ کمیشن (نیتی آیوگ) کے اعداد و شمار کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اعداد و شمار بتلاتے ہیں کہ انسانی ترقی کے ہر شعبے میں مسلمان اپنے برادران وطن سے پسماندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پلاننگ کمیشن کے مطابق اقلیتوں میں سکھ طبقہ سب سے بہتر صورت حال میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جس کے پاس پیسہ ہے وہ ترقی کرے گا اور مسلمانوں کی اقتصادی حالت بہت خراب ہے اس لئے وہ اعلی تعلیم حاصل نہیں کرسکتا۔ اس لئے سچر کمیٹی نے اس کی تعلیمی اور اقتصادی حالات کو بہتر کرنے کے لئے معتدد سفارش کی تھی۔


انہوں نے کہا کہ اسی لئے ہمارے اجداد نے دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا خواب دیکھا تھا اور ہمارے والد محترم شاہ عبدالرحیم مجددی نے جامعہ ہدایت کی بنیاد ڈالی تھی جس میں اس وقت دینی عصری تعلیم کے ساتھ کمپیوٹر کی تعلیم دی جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اجداد کا خواب تھا کہ دینی تعلیم کا ایسا نظام قائم کیا جائے جس سے روزگار حاصل ہوسکے۔ اس لئے انہوں نے دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا انتطام کیا جس سے مدارس کے طلبہ کو استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ 1996 میں امام ربانی اگلش میڈیم اسکول کی بنیاد رکھی گئی جو آج ملی نوجوانوں کو رفتار زمانہ سے علمی سطح پر ہم آہنگ کرنے کا ایک موثر ذریعہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ پروگرام کامقصد نہ صرف بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے بلکہ بچوں کی یاد داشت کو بھی تیز کرنا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ امام ربانی بپلک اسکول کے علاوہ چاراسکول ہیں۔ کیوں کہ چاروں اسکولوں کا ایک ساتھ سالانہ پروگرام منعقد کرنا ممکن نہیں ہے اس لئے ان اسکولوں کے کچھ عرصے کے بعد سالانہ پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔

مولانا مجددی نے کہا کہ اسی کے ساتھ ایک یہ سوچ بھی شامل حال رہی کہ مسلمانوں کو اس وقت تک ہمہ جہت قومی ترقی کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا جب تک سرکاری دفاتر اور سیول سروسیز میں ان کی مناسب نمائندگی نہیں ملتی۔ اس سوچ کے تحت کریسینٹ اکیڈمی قائم کی گئی جہاں سے اب تک 175 بچے کامیاب ہو کر ملک کے مختلف اعلیٰ سرکاری عہدوں پر اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے ہیں۔


عبدالرحیم ایجوکیشنل ٹرسٹ کی وائس چیرمین ڈاکٹر ثمرہ سلطانہ نے کہا کہ اگر خواتین میں حوصلہ اور عزم ہے تو وہ دنیا کے ہر شعبے میں اپنی چھاپ چھوڑ سکتی ہیں۔ انہوں نے سچر کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں میں تعلیم کی بہت کمی ہے اور اس کا ڈراپ آؤٹ بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس قوم کا حال جن کی مذہبی کتاب کا آغاز ہی اقرا سے ہوا ہے۔ اس پروگرام کے اہم شرکاء میں چیف سکریٹری حکومت راجستھان، راجستھان اقلیتی کمیشن کے چیرمین، سابق وزیر صحت نواب درو میاں، ڈاکٹر بشری آئی پی ایس، اسکولوں کے پرنسپلز اور عمائدین شہر موجود تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔