جموں و کشمیر کے سبھی ’سیاسی قیدیوں‘ کو فوراً آزاد کیا جائے: اپوزیشن

شرد پوار، ممتا بنرجی سمیت کئی بڑے لیڈروں نے فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے سرکردہ لیڈروں کو جلد آزاد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ قید و بند آئین میں دیئے گئے مساوات کے خلاف ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: اپوزیشن نے جموں وکشمیر کے سابق وزرائے اعلی فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت ریاست میں سبھی سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پیر کو کہا ہے کہ لوگوں کو غیر معینہ مدت تک نظربند رکھنا آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شردپوار، مغربی بنگال کی وزیراعلی اور ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی، سابق وزیراعظم اور جنتا دل سیکولر کے صدر ایچ ڈی دیوے گوڑا، مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری جنرل سیتا رام یچوری، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ڈی راجہ ، راشٹریہ جنتا دل کے منوج کمار جھا، سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا اور ارون شوری نے دہلی میں جاری مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے تینوں سابق وزرائے اعلی اور دیگر سیاستدانوں کو غیر معینہ مدت تک نظربند نہیں رکھا جاسکتا۔ یہ آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔


بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’جموں وکشمیر کے تینوں وزرائے اعلی اور دیگر سیاست داں نظر بند لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔اس کے علاوہ اپوزیشن پارٹیاں کشمیر کے لوگوں کے حقوق اور آزادی کو پوری طرح سے بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘ اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہےکہ ہندوستانی آئین تنوع میں یکجہتی پر اعتماد کرتا ہے اور ہر ایک کے خیالات کی قدر کرتا ہے۔ نریندر مودی حکومت میں جمہوری اختلاف کو انتظامی مشنری کے ذریعہ دبایا جارہا ہے۔یہ آئین میں دیئے گئے انصاف، آزادی، مساوات اور بھائی چارگی کے جذبات کے خلاف ہے۔

بیان کےمطابق ریاست میں 5 اگست 2019 سے ان لوگوں کو قیدمیں رکھا گیا ہے۔ ریاست کےکروڑوں لوگوں کےحقوق اور اقدار پر حملہ ہے۔ تینوں وزرائے اعلی کا کوئی ایسا ریکارڈ نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کی سرگرمیاں عوام مخالف اور ملکی مفادات کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔ خود بھارتیہ جنتا پارٹی ان لیڈروں کی پارٹیوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کےساتھ مرکز اور ریاست میں سیاسی اتحاد بناکر حکومت کرچکی ہے۔


جمہوری روایات، بنیادی حقوق اور شہریوں کی آزادی پر حملہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اختلافات کو نہ صرف دبایاجارہاہے بلکہ تنقید کرنے والوں کو خاموش کرایا جارہا ہے۔ جموں وکشمیر کے واقعات وزیراعظم اور وزیر داخلہ امت شاہ کے ریاست میں ’معمول کے حالات ‘ ہونے جیسے بیانوں کی قلعی کھولتا ہے۔ غیر ملکی سیاستدانوں کے کشمیر کے دورہ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈروں نے کہا ہے کہ ملک کی سیاسی پارٹیوں اور میڈیا کو ریاست میں داخل ہونے پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔