’ہم دیدی کے ساتھ ہیں اور رہیں گے‘، ٹی ایم سی کے باغی رکن اسمبلی قاسم صدیقی کی گھر واپسی
ٹی ایم سی رکن اسمبلی قاسم صدیقی کو ’پیرزادہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ ہگلی کے پھرپھرا شریف درگاہ سے تعلق رکھتے ہیں اور مسلم طبقہ میں ان کا کافی اثر و رسوخ ہے۔

سیاسی بحران کا شکار ترنمول کانگریس کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے۔ نارتھ 24 پرگنہ کے امدنگا سے رکن اسمبلی قاسم صدیقی نے ’گھر واپسی‘ کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ کچھ ماہ قبل باغی ہو کر رتبرت بنرجی کے گروپ میں شامل ہو گئے تھے۔ اب قاسم نے پھر سے ممتا بنرجی کے خیمے میں لوٹنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ دیدی کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، انہیں دھوکہ دیا گیا تھا۔ رتبرت بنرجی کا گروپ چھوڑنے کے فیصلے کے بارے میں قاسم نے بتایا کہ انہیں کہا گیا تھا کہ یہ گروپ بنرجی کی قیادت میں چلے گا۔ لیکن بعد میں انہیں سمجھ آیا کہ اس کے کام کاج میں ’دیدی‘ کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ قاسم کا کہنا ہے کہ ہمیں ڈاکیومنٹ پر دستخط کرنے کے لیے کہا گیا تھا اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ دستخط دیدی تک پہنچ جائیں گے۔
ٹی ایم سی رکن اسمبلی قاسم نے مزید کہا کہ ’’جب ہم وہاں گئے تو دیدی کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔ وہ میری دیدی ہیں، رتبرت کون ہیں؟ میں دیدی کو جانتا ہوں۔ رتبرت نے کہا تھا کہ دیدی ہم سے اوپر ہوں گی، انہوں نے یہ بات سب سے کہی تھی۔ اس لیے جب دیدی نہیں ہوں گی تو میں بھی نہیں رہوں گا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’دیدی ہمارے لیے سب کچھ ہیں۔ انہوں نے ہمیں ٹکٹ دی اور اسمبلی بھیجا۔ ہم نے ان کی تصویر کے ساتھ ووٹ مانگا اور لوگوں نے انہیں دیکھ کر ہی ہمیں ووٹ دیا، اس لیے ہم دیدی کے ساتھ تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
واضح رہے کہ قاسم صدیقی کو ’پیرزادہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ ہگلی کے پھرپھرا شریف درگاہ سے تعلق رکھتے ہیں اور مسلم طبقہ میں ان کا کافی اثر و رسوخ ہے۔ وہ گزشتہ سال ٹی ایم سی میں شامل ہوئے تھے اور بعد میں پارٹی کے جنرل سکریٹری بن گئے۔ پارٹی نے انہیں امدنگا سے امیدوار بنایا، جہاں سے انہوں نے اسمبلی انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔ ان کی واپسی مغربی بنگال کی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی قیادت کو لے کر ٹی ایم سی کے اندر جاری سیاسی کھینچ تان کے درمیان ہوئی ہے۔ باغی گروپ نے اس معاملے پر اسپیکر کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے اور فلور ٹیسٹ کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ٹی ایم سی رکن اسمبلی کنال گھوش نے کہا کہ اسپیکر کا فیصلہ عارضی تھا اور جو عارضی ہے وہ مستقل نہیں ہوتا۔ ٹی ایم سی فلور ٹیسٹ کا چیلنج قبول کرنے کو تیار ہے، لیکن یہ خفیہ رائے دہی سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے باغی گروپ پر الزام عائد کیا کہ وہ ریاستی حکومت کی مبینہ حمایت سے ٹی ایم سی کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ بار بار فلور ٹیسٹ کی بات کر رہے ہیں لیکن ہمیں چیلنج قبول ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
