20 باغی اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی کے معاملے پر سپریم کورٹ پہنچی ٹی ایم سی، کل ہوگی سماعت
ٹی ایم سی نے پارٹی کے 20 باغی ایم پی کی نااہلی سے متعلق معاملے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی جانب سے فیصلہ لینے میں ہو رہی تاخیر کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ یہ عرضی ابھیشیک بنرجی نے داخل کی ہے۔

ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے پارٹی کے 20 باغی اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی سے متعلق معاملے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی جانب سے فیصلہ لینے میں ہو رہی تاخیر کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ منگل (25 اگست) کو سماعت کرے گی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ اس عرضی پر غور کرے گی۔ یہ عرضی ٹی ایم سی کے قومی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔ پارٹی نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لوک سبھا اسپیکر کو نااہلی کی عرضیوں پر مقررہ مدت میں فیصلہ لینے کی ہدایت دے۔
واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتائج کے بعد ٹی ایم سی کے 20 لوک سبھا اراکین پارلیمنٹ نے پارٹی چھوڑ کر نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ اس کے بعد ٹی ایم سی نے ان اراکین کے خلاف دَل-بدَل قانون کے تحت نااہلی کی عرضیاں دائر کی تھیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ نے جس پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابات جیتے تھے، اسے چھوڑنے کے بعد ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کی جانی چاہیے۔ تاہم لوک سبھا اسپیکر کے دفتر نے اب تک ان عرضیوں پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا ہے۔
سپریم کورٹ کا رخ کرنے سے قبل ابھیشیک بنرجی نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر نااہلی کی عرضیوں کو جلد نمٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے قبل ابھیشیک بنرجی، مہوا موئترا اور کلیان بنرجی سمیت ٹی ایم سی کے سینئر لیڈران نے اسپیکر سے ملاقات کر کے 20 باغی اراکین پارلیمنٹ کو فوری طور پر نااہل قرار دینے کی اپیل کی تھی۔ حالانکہ اسپیکر کے دفتر کی جانب سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے ٹی ایم سی نے عدالتی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ باغی اراکین پارلیمنٹ کے لیے لوک سبھا میں الگ بیٹھنے کا انتظام کیا جا چکا ہے، جبکہ نئی پارٹی میں ان کے شامل ہونے کو لے کر باضابطہ منظوری کا معاملہ اب بھی زیر بحث ہے۔ دوسری جانب حالیہ دنوں میں مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے بھی دہلی میں ان 20 اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ ان اراکین سے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ملاقات کی تھی۔
