ہریدوار نفرت انگیز تقاریر معاملہ میں وسیم رضوی عرف جتیندر نارائن تیاگی گرفتار، یتی نرسنگھانند برہم

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں پولیس عہدیدار وسیم رضوی (جتیندر نارائن تیاگی) کو حراست میں لینے کے دوران نرسنگھانند سے تعاون کی درخواست کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے

تصویر ویڈیو گریب
تصویر ویڈیو گریب
user

قومی آوازبیورو

دہرادون: ہریدوار دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرنے کے معاملہ میں پولیس نے جمعرات کے روز پہلی گرفتاری کرتے ہوئے شعیہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی عرف جتیندر نارائن تیاگی کو حراست میں لے لیا۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، اس گرفتار پر برہم یتی نرسنگھانند نے پولیس افسران سے کہا ’’تم سب مروگے۔‘‘ نفرت انگیز تقریر کرنے کے معاملہ میں ملزمان ہندو پیشواؤں میں یتی نرسنگھانند بھی شامل ہے۔

اتراکھنڈ پولیس نے یتی نرسنگھانند اور ایک دیگر ملزم سادھوی انپورنا کو نوٹس جاری کر پیش ہونے کو کہا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں پولیس عہدیدار وسیم رضوی (جتیندر نارائن تیاگی) کو حراست میں لینے کے دوران نرسنگھانند سے تعاون کی درخواست کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔

کار میں بیٹھے یتی نرسنگھانند افسران پوچھ رہے ہیں کہ وسیم رضوی کو کیوں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ افسران نے سمجھایا کہ تیاگی کے خلاف درج معاملوں کے سلسلہ میں ان کی گرفتاری کی جا رہی ہے۔


نرسنگھانند نے کہا، ’’میں تین معاملوں میں ان کے ساتھ ہوں۔ کیا انہوں نے اکیلے ایسا کیا؟‘‘ افسران نے اس پر نرسنگھانند سے کار سے باہر نکلنے کو کہا تاکہ وہ گرفتاری کے عمل کو پرا کر سکیں، تاہم نرسنگھانند اپنی بات پر بضد رہے۔ افسران نے مزید کہا، ’’تیاگی جی صورت حال کو سمجھ رہے ہیں۔‘‘ اس پر نرسنگھانند نے کہا ’’لیکن میں نہیں۔ وہ ہماری حمایت سے ہندو بن گئے ہیں۔‘‘

خیال رہے کہ اتر پردیش شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی نے گزشتہ ماہ ہندو مذہب اختیار کیا تھا اور اپنا نام جتیندر سنگھ نارائن تیاگی رکھ لیا تھا۔ اس تقریب کا اہتمام غازی آباد میں واقع ڈاسنا دیوی مندر کے پجاری نرسنگھانند نے کیا تھا، جو متنازعہ تقاریر کرنے کے لیے مشہور ہیں۔


ہریدوار کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس یوگیندر راوت نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ تیاگی کو روڑکی سے گرفتار کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے بدھ کے روز اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں کی گئی کارروائی پر 10 دن کے اندر حلف نامہ جمع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس حکم کے بعد اتراکھنڈ پولیس نے پہلی گرفتاری کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔