کیا فرانس میں پی ایم مودی پر میڈیا کے سوالوں کا خوف طاری تھا؟ کانگریس نے شیئر کی ویڈیو
کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ میڈیا کے سوالوں سے 56 انچ والے اتنا ڈر رہے ہیں کہ میٹنگ سے قبل گڑگڑاتے نظر آ رہے ہیں... پلیز کوئی سوال نہ پوچھ لے۔

کانگریس ہمیشہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ملک میں پریس کانفرنس کرنے سے بچتے ہیں، کیونکہ وہ میڈیا کے سوالات کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔ بیرون ممالک میں بھی کئی بار پی ایم مودی کو میڈیا کے سوالوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اب کانگریس نے ایک ویڈیو شیئر کر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پی ایم مودی سوالوں سے بہت ڈرتے ہیں۔
دراصل کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ’دی اکونومک ٹائمز‘ کی وہ ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں امریکی سفیر انٹرویو کے دوران فرانس میں منعقدہ جی-7 اجلاس کا ذکر کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’مودی کو سوالوں سے کتنا خوف لگتا ہے، اس کا ثبوت دیکھ لیجیے۔‘‘ ساتھ ہی کانگریس نے ویڈیو میں کہی گئی باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’امریکی سفر نے بتایا کہ فرانس میں جی-7 اجلاس میں مودی کی ٹرمپ سے ملاقات ہونی تھی۔ اس سے ٹھیک پہلے ہندوستانی وزارت خارجہ نے یہ گزارش کی کہ پریس کانفرنس میں میڈیا کے سوال نہ لیے جائیں۔‘‘
امریکی سفیر کے مذکورہ بالا بیان کو سامنے رکھتے ہوئے کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک طرح سے کٹہرے میں ہی کھڑا کر دیا۔ کانگریس نے کہا کہ ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ میڈیا کے سوالوں سے 56 انچ والے اتنا ڈر رہے ہیں کہ میٹنگ سے پہلے گڑگڑاتے نظر آ رہے ہیں... پلیز کوئی سوال نہ پوچھ لے۔‘‘ ساتھ ہی اس اہم اپوزیشن پارٹی نے یہ بھی لکھا کہ ’’اسی خوف کی وجہ سے مودی نے آج تک ایک پریس کانفرنس نہیں کی ہے۔ ایک بار امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں سوالوں سے سامنا ہوا تھا تو پسینہ پسینہ ہو گئے تھے، زبان لڑکھڑانے لگی تھی۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی بھی پی ایم مودی پر میڈیا کے سوالوں کا سامنا نہ کرنے کا الزام عائد کر چکے ہیں۔ رواں سال مئی ماہ کی ہی بات ہے جب ناروے میں ایک خاتون صحافی ہیلا لینگ نے ایک تقریب کے بعد پی ایم مودی سے سوال کیا تھا، لیکن وہ سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے تھے۔ اس کی ویڈیو خاتون صحافی نے ’ایکس‘ پر پوسٹ بھی کی تھی، جس کے بعد راہل گاندھی نے پی ایم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ ’’جب دنیا ایک کمپرومائزڈ پی ایم کو کچھ سوالوں سے گھبرا کر بھاگتے ہوئے دیکھتی ہے، تو ہندوستان کی شبیہ پر کیا اثر پڑتا ہے۔ جب چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے تو ڈرنے کی بھی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
