’ووٹ چور‘ گیانو چھوٹے پیادوں کو نمٹا کر خود کو بچانے میں مصروف ہے: کانگریس

کانگریس نے کہا کہ پہلے پیلی بھیت میں 2 ایس ڈی ایم اور کچھ ملازمین کو ہٹایا گیا، اب اعظم گڑھ میں مجموعی طور پر 9 لوگوں کے خلاف کارروائی گئی ہے۔ اپنی کرسی بچانے کے لیے گیانو چھوٹے ملازمین کو نمٹا رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، گرافکس ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>
i

اعظم گڑھ کی ووٹر لسٹ میں بے ضابطگی کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ جانچ کے بعد کچھ افسران پر کارروائی بھی کی گئی ہے، لیکن کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ کارروائی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اپنی کرسی بچانے کے لیے کی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’ووٹ چور گیانو چھوٹے پیادوں کو نمٹا کر خود کو بچانے میں مصروف ہے۔‘‘

یہ تبصرہ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیا ہے۔ پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’پہلے پیلی بھیت میں 2 ایس ڈی ایم اور کچھ ملازمین کو ہٹایا گیا۔ اب اعظم گڑھ میں مجموعی طور پر 9 لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔‘‘ آگے مطلع کیا گیا ہے کہ ’’دراصل اعظم گڑھ کی ووٹر لسٹ میں وکاس یادو کے نام سے 13 ووٹ پائے گئے۔ ووٹر لسٹ کی اس گڑبڑی کے لیے کمپیوٹر اسسٹنٹ اور 5 بوتھ لیول افسران (بی ایل او) کو ملازمت سے نکالا جائے گا۔‘‘ پارٹی نے یہ بھی بتایا کہ ’’اُس وقت کے ای آر او اور 2 اے ای آر او پر محکمہ جاتی کارروائی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔‘‘


کانگریس نے ہونے والی مذکورہ بالا سبھی کارروائی کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے لیے دفاعی عمل ٹھہرایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’گیانو کا ووٹ چوری کا کھیل اب ملک بھر سے سامنے آنے لگا ہے اور اپنی کرسی بچانے کے لیے گیانو چھوٹے ملازمین کو نمٹا رہا ہے۔‘‘ ساتھ ہی اپوزیشن پارٹی لکھتی ہے کہ ’’عوام حقیقت جان چکی ہے، ووٹر لسٹ کی ان خامیوں کے لیے گیانو ذمہ دار ہے، جس نے مودی کے کہنے پر یہ عمل انجام دیا ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ سماجوادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو کا وہ الزام درست ثابت ہوا ہے جس میں اعظم گڑھ ضلع کی ووٹر لسٹ میں کئی بے ضابطگیوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ سماجوادی پارٹی نے ایک پریس کانفرنس کر ’وکاس یادو‘ نامی شخص کو سامنے لایا تھا اور سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ہی اسمبلی حلقہ میں ان کے نام پر کئی ووٹ درج ہیں۔ اس انکشاف کے بعد الیکشن کمیشن نے فوراً معاملہ پر نوٹس لیا اور ضلع الیکٹورل افسر اعظم گڑھ سے جانچ رپورٹ طلب کی۔ جانچ میں یہ الزام ثابت ہو گیا کہ ’وکاس یادو‘ کا نام 13 بار موجود ہے۔ ان میں ایک انٹری گورکھپور سے جڑی ملی۔ یہ ووٹر لسٹ چوری چورا اسمبلی حلقہ سے متعلق ہے۔


میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ اعظم گڑھ سے جڑی انٹریوں کی جانچ کی گئی۔ 2 جگہ ناموں کو حذف کیا جا چکا تھا، باقی 11 کی جانچ کی گئی تو پتہ چلا کہ 11 الگ الگ اشخاص ہیں اور سبھی اپنے گاؤں میں ہی رہ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک کا نام ’وکاس یادو‘ ہے اور بقیہ 10 لوگوں کا نام غلط درج ملا۔ ان کی دیگر تفصیلات کو بھی درست کیا جانا ہے، جس کے لیے فارم-8 بھروایا گیا ہے۔ اس جانچ کے بعد ہی کمپیوٹر اسسٹنٹ اور 5 بی ایل او سمیت 9 افسران و ملازمین پر شکنجہ کسا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔