جموں و کشمیر کے لوگوں کی آواز سننے کی ضرورت: منموہن سنگھ

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان بہت گہرے بحران سے گزر رہا ہے اور اس کو ہم خیال لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے

تصویر سوشل میڈیا 
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ جو اسی وقت بولتے ہیں جب بولنے کی ضرورت ہوتی ہے انہوں نے پہلی مرتبہ آرٹیکل 370 ختم کیے جانے کے فیصلہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیکل 370 کو ختم کیے جانے کا حکومت کا فیصلہ ہندوستان میں رہ رہے بہت سے لوگوں کی پسند کا فیصلہ نہیں ہے اور ہندوستان کے مرکزی خیال کے لئے ضروری ہے کہ ان سب لوگوں کو اور جمو ں و کشمیر کے لوگوں کی آواز کو سنا جائے۔

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس کے ساتھ کہا ہےکہ ہندوستان ایک بہت گہرے بحران سے گزر رہا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہر خیال کے لوگوں کی بات سنی جائے۔ انہوں نے کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کیے جانے پر کہا ’’یہ فیصلہ ملک کے سب لوگوں کی پسند کا نہیں ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ان سب لوگوں کی آواز کو سنا جائے۔ ہم اپنی آواز اٹھا کر ہی یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہندوستان کا مرکزی خیال جو ہم سب لوگوں کو بہت عزیز ہے وہ جاری رہے‘‘۔

آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد سابق وزیر اعظم کا یہ پہلا بیان ہے جو انہوں نے اپنے سابق ساتھی جے پال ریڈی کے انتقال پر منعقد ایک اجلاس میں ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد دیا۔ اس موقع پر انہوں نے جے پال ریڈی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریڈی کا انتقال ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک بڑی مشکل دور سے گزر رہا ہے اور اندھیرے کی قووتوں نے ہندوستان کے مرکزی خیال کو دبا دیا ہے۔

Published: 13 Aug 2019, 8:00 AM