وویک چترویدی سی بی آئی سی کے نئے چیئرمین مقرر، یکم دسمبر سے سنبھالیں گے ذمہ داری

حکومت نے وویک چترویدی کو سی بی آئی سی کا نیا چیئرمین مقرر کیا ہے۔ وہ سنجے کمار اگروال کی جگہ لیں گے۔ 1990 بیچ کے آئی آر ایس افسر چترویدی یکم دسمبر 2025 سے اپنا عہدہ سنبھالیں گے

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: حکومت ہند نے سینئر انڈین ریونیو سروس (کسٹمز اینڈ ان ڈائریکٹ ٹیکسز) افسر وویک چترویدی کو سینٹرل بورڈ آف ان ڈائریکٹ ٹیکسز اینڈ کسٹمز (سی بی آئی سی) کا نیا چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں تقرری کا باضابطہ حکم محکمۂ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے ہفتہ کے روز جاری کیا، جسے کابینہ کی تقرری کمیٹی نے منظوری دی ہے۔

وویک چترویدی اس وقت سی بی آئی سی کے ممبر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ 1990 بیچ کے آئی آر ایس (سی اینڈ آئی ٹی) افسر ہیں اور ٹیکس ایڈمنسٹریشن، ویجیلنس اور کمپلائنس کے شعبوں میں تین دہائیوں سے زیادہ تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ سنجے کمار اگروال کی جگہ لیں گے جن کی مدتِ کار 28 نومبر 2025 کو مکمل ہو گئی اور وہ اسی دن ریٹائر ہو گئے۔

ستمبر 2025 میں سی بی آئی سی کے ممبر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنے سے قبل چترویدی نے مختلف کلیدی عہدوں پر کام کیا۔ ان میں پرنسپل ڈائریکٹر جنرل آف ویجلینس، سی بی آئی سی کے چیف ویجلینس آفیسر اور کئی دیگر اہم انتظامی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ وہ بالواسطہ ٹیکسوں کے نظام کی نگرانی، نفاذ اور اصلاحات سے متعلق امور میں گہری مہارت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔


سی بی آئی سی، جو وزارتِ مالیات کے محکمۂ محصولات کے تحت ایک اعلیٰ ادارہ ہے، ملک میں بالواسطہ ٹیکسوں جیسے جی ایس ٹی، کسٹمز ڈیوٹی اور مرکزی ایکسائز کے نفاذ اور انتظام کا ذمہ دار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ادارہ تجارت کی سہولت، قانون نافذ کرنے، اسمگلنگ کی روک تھام اور محصولات کی وصولی کے مؤثر نظام کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چیئرمین سی بی آئی سی کو حکومتِ ہند کے سیکرٹری کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور وہ انڈین ریونیو سروس (کسٹمز اینڈ ان ڈائریکٹ ٹیکسز) کیڈر کے کنٹرولنگ اتھارٹی بھی ہوتے ہیں۔

حکومتی حکم نامے کے مطابق، وویک چترویدی یکم دسمبر 2025 سے باضابطہ طور پر سی بی آئی سی کے چیئرمین کے طور پر اپنی مدتِ کار کا آغاز کریں گے اور آئندہ برسوں میں بالواسطہ ٹیکس نظام کی پالیسی سازی اور اس کی اصلاح میں کلیدی کردار ادا کرنے کی توقع ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔