پانچ سالہ غریب اور بے بس بچی کی قسمت تصویر وائرل ہونے کے بعد بدل گئی

غریب بچی کی ایک ایسی تصویر وائرل ہوئی کہ اس نے اس بچی کی قسمت ہی بدل دی اور اب وہ بھی اپنے ہم عمر بچوں کی طرح اسکول جا رہی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

حیدرآباد میں ایک غریب بچی کی ایک ایسی تصویر وائرل ہوئی جس نے اس غریب بچی کی زندگی ہی بدل ڈالی۔ اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد اس بچی کا اسکول میں داخلہ تو ہوا ہی ساتھ ہی رات و رات وہ اپنے علاقہ میں ایک سلیبریٹی بن گئی۔ دراصل اس بچی کی تصویر سے اس کی غربت اور اس کی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار ہو رہا تھا۔

واضح رہے اس تصویر میں پانچ سالہ بچی کو دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کتنی خواہش بھری نظروں سے ایک کلاس میں بچوں کو تعلیم حاصل کرتے دیکھ رہی ہے۔ اس بچی کے کپڑے جہاں میلے کچیلے ہیں وہیں اس کے ہاتھ میں ایک تھالی نظر آ رہی ہے۔ اس سے اس کی غریبی جھلکتی ہے، اس کا تعلیم حاصل کرتے بچوں کو دیکھنے کے انداز سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن حالات کے ہاتھوں مجبور ہے۔

تصویر وائرل ہونے کے بعد، اسکول نے اب بچی کو داخلہ دے دیا ہے۔ بچی کا نام دِویا بتایا جا رہا ہے۔ دیویا کے والدین قریبی کچی آبادی میں رہتے ہیں۔ اس کے والد کوڑا اٹھانے کا کام کرتے ہیں، جبکہ والدہ صفائی ملازمہ ہیں۔ مڈ ڈے میل سے جو کھانا بچ جاتا ہے دِویا اسی کو کھانے اسکول جاتی تھی۔

Why not this child is enrolled and have her right to food and right to education...it's a shame...

Posted by Venkat Reddy R on Wednesday, November 6, 2019

یہ تصویر تلگو زبان کے ایک اخبار میں سات نومبر کو شائع ہوئی تھی جس پر کیپشن لکھا تھا ’’بھوک اپنی نظریں گڑائے ہوئے۔‘‘ اخبار میں یہ تصویر شائع ہوتے ہی موضوع بحث بن گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں سامنے آئیں اور پھر یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ تصویر کے سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی بچی کا اسکول میں داخلہ ہو گیا اور اس کا یہ اسکول اس کی رہائش سے سو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔

تصویر وائرل ہونے کے بعد، اسکول نے اب بچی کو داخلہ دے دیا ہے
تصویر وائرل ہونے کے بعد، اسکول نے اب بچی کو داخلہ دے دیا ہے

بچی کے والد اب اس بات سے بہت خوش ہیں کہ ان کی بچی بھی دوسرے بچوں کی طرح اسکول جا رہی ہے۔ بچی کے والد چاہتے ہیں کہ ان کی بچی کی طرح ہر بچی کی تعلیم کو یقینی بنانے کی سمت میں قدم اٹھانے چاہیے۔

Published: 27 Nov 2019, 6:11 PM