یوپی میں وائرل بخار کی دہشت! لکھنؤ میں 400 کیسز، فیروز آباد میں 50 افراد ہلاک، 3 ڈاکٹر معطل

لکھنؤ کے اسپتالوں میں 40 بچوں سمیت 400 وائرل بخار سے متاثرہ مریضوں کو داخل کیا گیا ہے، جبکہ فیروز آباد میں وائرل بخار سے مزید 6 اموات کے بعد جان گنوانے والے افراد کی تعداد 50 تک پہنچ گئی ہے

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: موسم میں تبدیلی کے سبب اتر پردیش میں وائرل بخار کا پھیلاؤ پیر پسار رہا ہے۔ راجدھانی لکھنؤ میں 40 بچوں سمیت 400 افراد وائرل بخار سے متاثر ہیں۔ ان تمام مریضوں کا علاج سرکاری اسپتالوں میں ہو رہا ہے۔ او پی ڈی میں آنے والے 20 فیصد مریضوں کو بخار، نزلہ اور زکام کی شکایت ہے، تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ موسمی فلو ہے، لہذا زیادہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وائرل مریضوں میں اچانک اضافے کی وجہ سے ہسپتالوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔

ہسپتالوں میں ہدایات دی گئی ہیں کہ او پی ڈی میں علاج سے پہلے مریضوں کا کورونا کا اینٹی جن ٹیسٹ کیا جائے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، گزشتہ ہفتے سے وائرل بخار کے کیسز میں تقریباً 15 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ وہیں، اگست کے تیسرے ہفتے تک بخار کے مریضوں کی تعداد 5 فیصد تھی۔


بلرام پور ہسپتال، سول ہسپتال اور لوہیا انسٹی ٹیوٹ میں بڑی تعداد میں وائرل بخار کے مریض پہنچ رہے ہیں۔ یہاں 300 سے زائد مریض بخار کی پریشانی کے ساتھ او پی ڈی میں آئے۔ مہانگر بھوراؤ دیورس، رانی لکشمی بائی، لوک بندھو، رام ساگر مشرا اور کمیونٹی ہیلتھ سنٹرز میں بھی بخار کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

سول ہسپتال کے ڈائریکٹر ایس کے نندا نے انڈیا ٹوڈے کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ موسم تیزی سے بدل رہا ہے اور نمی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں وائرس فضا کی نچلی سطح پر موجود ہوتے ہیں۔ وائرل بخار کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے اور ڈینگی کے تین مریض ہسپتال میں داخل ہیں۔ وائرل بخار اور دیگر متعلقہ بیماریوں کے معاملات میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔


ادھر، فیروز آباد میں بخار کے سبب گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 6 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس کے بعد جان گنوانے والوں کی تعداد 50 ہو گئی ہے۔ دریں اثنا تین ڈاکٹروں کو غفلت برتنے کی پاداش میں معطل کر دیا گیا ہے۔

اموات کی تعداد میں اضافہ کے پیش نظر ضلع مجسٹریٹ چندر وجے سنگھ نے حکم جاری کیا تھا کہ اگر کسی بھی مریض کے ساتھ غفلت برتی گئی تو ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔