سی اے اے کے خلاف پرتشدد مظاہرے، یوپی میں 11 افراد ہلاک

غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق مہلوکین کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔ ڈی جی پی نے بھی لکھنؤ میں مہلوکین کی تعداد میں اضافے کے اشارے دیئے ہیں۔ دریں اثنا خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں اتر پردیش کے مختلف اضلاع میں ہو رہے احتجاجی مظاہروں کے بعض مقامات پر تشدد میں تبدیل ہوجانے سے اب تک 11 افراد کی موت ہوگئی ہے جبکہ 43 پولیس اہلکار سمیت 75 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ریاستی راجدھانی سمیت دیگر مقامات پرحالت دھیرے دھیرے معمول پر آرہے ہیں لیکن اب بھی کشیدگی برقرار ہے اور حساس علاقوں میں کثیر تعداد میں سیکورٹی اہلکار کو تعینات کیا گیا ہے۔ خبررساں ایجنسی یو این آئی کو غیر مصدقہ ذرائع نے بتایا ہے کہ مہلوکین کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ ڈی جی پی نے بھی لکھنؤ میں مہلوکین کی تعداد میں اضافے کے اشارے دیئے ہیں۔ دریں اثنا، خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

ڈائرکٹر جنرل آف پولیس او پی سنگھ نے سنیچر کو بتایا کہ ریاست میں شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں ہو رہے احتجاجی مظاہروں کے درمیان ہوئے تشدد میں اب تک 9 افراد کی اموات ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کانپور، میرٹھ، بجنور اور فیروزآباد میں دو، دو اور لکھنؤ میں ایک شخص کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔ لکھنؤ میں مہلوکین کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریاستی راجدھانی میں جمعرات کو احتجاج کے دوران پیش آئے تشدد کے معاملے میں ابھی تک 218 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ تشدد کے الزام میں ریاست میں تقریباً 8000 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’افواہوں پر روک تھام کے لئے احتیاط کے طور پر کئی اضلاع میں انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا گیا ہے۔ سنبھل، مظفر نگر، میرٹھ، بجنور، بلند شہر، کانپور، گورکھپور، وارانسی اور فیروزآباد سمیت 12 اضلاع میں جمعہ کی نماز کے بعد عوام شہریت ترمیمی قانونی کی مخالفت میں سڑکوں پر اترے اور توڑ پھوڑ و آگزنی کی‘‘۔

اتر پردیش کے متعدد شہروں میں پرتشدد مظاہروں کے بعد ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ آج ریاست کے تمام اسکول اور کالج بند ہیں۔ تشدد اور ہنگامہ آرائی کے پیش نظر، 31 جنوری 2020 تک پورے اتر پردیش میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔ نیز، تشدد سے متاثرہ علاقوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔

اس درمیان وزیر اعلی یوگی آدتیہ نے ریاستی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور ریاست میں امن وامان کے قیام کے لئے حکومت کا تعاون کریں۔ حکومت ریاست کے ہر شہری کو تحفظ فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’کسی کو بھی سماج مخالف عناصر کی جانب سے شہریت قانون کے بارے میں پھیلائی جا رہی افوہ اور بہکاوے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر شخص کو سیکورٹی فراہم کرنا ریاستی حکومت کا فرض ہے اور یو پی پولیس ہر شخص کو سیکورٹی فراہم کر رہی ہے!‘‘