قومی ترانہ کے نام پر تشدد: فیضان کی موت کے 2 سال بعد بھی پولیس ملزم اہلکاروں کی شناخت کرنے میں ناکام! گرفتاری پر رکھا انعام

فیضان کی موت کے دو سال بعد دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے کارروائی کرتے ہوئے اس واقعہ میں ملوث اپنے ہی ملزم اہلکاروں کی گرفتاری پر انعام کا اعلان کیا ہے

تصویر ویڈیو گریب
تصویر ویڈیو گریب
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں 2020 میں ہونے والے مسلم مخالف فسادات کے دوران ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرسل ہوئی تھی، جس میں کچھ پولیس اہلکار 23 سالہ فیضان پر تشدد کرتے ہوئے اسے قومی ترانہ اور وندے ماترم گانے پر مجبور کر رہے تھے۔ اس واقعہ میں بری طرح زخمی ہونے والے فیضان کی موت واقع ہو گئی تھی۔ ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق اب فیضان کی موت کے دو سال بعد دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے کارروائی کرتے ہوئے اس واقعہ میں ملوث اپنے ہی ملزم اہلکاروں کی گرفتاری پر انعام کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اعلان دہلی پولیس کی جانب سے ملزم اہلکاروں کے خلاف ٹھوس شواہد اکٹھے کرنے میں بار بار رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔

فیضان کی 26 فروری 2020 کو شمال مشرقی دہلی میں واقع ایک ہسپتال میں موت ہو گئی تھی۔ فیضان کو پولیس اہلکاروں کی طرف سے تشدد کا شکار بنائے جانے کے بعد پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا تھا اور ایک دن بعد اس کی رہائی کے ایک دن بعد اسے ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق فیضان کو چار دیگر افراد کے ساتھ وندے ماترم اور قومی ترانہ گانے پر مجبور کیا گیا تھا۔


ذرائع نے بتایا کہ کرائم برانچ نے تقریباً 250 پولیس اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی اور کئی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی، جس میں فسادات کے دوران علاقے کے باہر سے تعینات پولیس اہلکاروں کے ڈیوٹی چارٹ بھی شامل ہیں۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایا، ’’ان سے پوچھ گچھ کے بعد، دہلی مسلح پولیس میں تعینات ایک ہیڈ کانسٹیبل کی شناخت کی گئی لیکن اس نے واقعہ میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔ بعد ازاں اس کا پولی گراف ٹیسٹ کرایا گیا جس میں وہ ناکام ہو گیا۔ چونکہ پولی گراف ٹیسٹ کی رپورٹ عدالت میں قابل قبول نہیں ہے، اس لیے پولیس نے واقعہ کے ویڈیو کلپ سے اس کی آواز کا نمونہ لیا اور اسے روہنی میں واقع فارنسک سائنس لیبارٹری میں بھیجا گیا۔‘‘

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ کرائم برانچ کے سینئر عہدیداروں نے فسادات کے معاملات کو دیکھنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے کہا ہے کہ وہ ان تمام معاملات کے تفتیشی افسران کو تبدیل کریں جو ابھی تک حل نہیں ہوئے ہیں۔ ایس اس توقع کے ساتھ کیا گیا ہے کہ نئے تفتیشی افسران مقدمات میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔


رپورٹ کے مطابق ایک افسر نے بتایا ’’فیضان کیس کے تفتیشی افسر کو بھی تبدیل کیا گیا تھا اور نئے آئی او سے کہا گیا تھا کہ وہ ملزم کی گرفتاری پر نقد انعام تجویز کرے۔ نئے آئی او نے تمام پولیس اہلکاروں سے دوبارہ پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ اب تک تقریباً 95 پولیس اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


;