گاؤں، کسان و مزدور ملک کی ترجیحات، خواتین کی شراکت داری ضروری: مرنال پانڈے

روزنامہ ’نو پردیش‘ کی آٹھویں سالگرہ پر منعقد پروگرام میں بطور اہم مقرر قومی آواز، نیشنل ہیرالڈ اور نوجیون کی ادارتی مشیر مرنال پانڈے نے ’دیہی معیشت سے مضبوط ہوتا چھتیس گڑھ‘ موضوع پر اپنی بات رکھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

مرنال پانڈے

روزنامہ ’نو پردیش‘ کی آٹھویں سالگرہ پر رائے پور میں منعقد پروگرام میں قومی آواز، نیشنل ہیرالڈ اور نوجیون (نئی دہلی) کی گروپ سینئر ادارتی مشیر مرنال پانڈے نے بطور اہم مقرر ’دیہی معیشت سے مضبوط ہوتا چھتیس گڑھ‘ موضوع پر اپنے نظریات رکھے۔ مرنال پانڈے نے اپنی بات رکھتے ہوئے دیہی معیشت میں خواتین کی حالت اور ان کی خودمختاری پر زور دیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے چھتیس گڑھ حکومت کے ذریعہ کیے جا رہے کاموں کی تعریف بھی کی۔ مرنال پانڈے کی اس تقریر کا متن ’قومی آواز‘ کے قارئین کے لیے ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

رائے پور میں چھتیس گڑھ میں سب کچھ دھلا دھلا اور ہرا بھرا دیکھ کر کافی اچھا لگا۔ امید کرتی ہوں کہ یہ ریاست ایسے ہی ہری بھری اور دھلی دھلی بنی رہے۔ حالانکہ اس زمانے میں یہ کام کسی الٹی سمت میں کشتی ٹھیلنے جیسا ہے۔ پھر بھی بگھیل جی (چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ) سے ملنا بہت اچھا ہوتا ہے۔ اور انھوں نے جو نیا نعرہ دیا ہے دیہی ترقی سے جڑا ہوا، میں سمجھتی ہوں کہ یہ آج کے دور میں بسرے ہوئے ’امرت‘ کی تلاش ہے۔ ’سراجی‘ لفظ آج اس ملک کے ذہن سے نکل گیا ہے۔ آج سے 100 سال پہلے جب گاندھی جی اپنے وطن لوٹے تھے انھوں نے صحافت کی راہ پکڑی کیونکہ انھیں ہر فرد تک پہنچنا تھا۔ گجرات میں انھوں نے کہا کہ وہ لسانی اخبار نکالنا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں عام لوگوں اور گاؤں تک پہنچنا تھا۔ انھوں نے ’نو جیون آنی ساہتیہ‘ نام کے ہفتہ وار اخبار کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ انھوں نے اسے گجراتی اور ہندی میں نکالا۔ پھر وہ آگے بڑھے۔ اس کے ساتھ ہی ہندی صحافت کا سیدھا چھور سیاست سے بھی جڑا اور عام ہندوستانی سے بھی جڑا۔ ہم کو یہ ماننے میں کوئی جھجک نہیں ہونی چاہیے کہ ہندی صحافت دامن کس کر ’سراجی‘ سوچ سے جڑا ہوا ہے۔ سیاست کو آج کل پراگندہ لفظ تصور کیا جانے لگا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ سیاست ہر جگہ چلتی ہے۔ پنچایتوں میں چلتی ہے، ڈویژنوں میں چلتی ہے، ضلع سطح پر چلتی ہے۔ سیاست یا اقتدار کا توازن اور اقتدار کے لیے جدوجہد اور یہ لگاتار چلنے والی دھارا ہے۔ جب یہ اٹک جاتی ہے تو گندی ہو جاتی ہے، نہیں اٹکتی اور بہتی رہتی ہے تو اس سے بہتر راہ نظر نہیں آتی۔ اس لیے اچھا ہے کہ سرکردہ سیاست میں اس ریاست میں ایک بار پھر گھر، جنگل، گئو دھن، پشو دھن کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ ایک اور نظریے سے اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ گاندھی جی نے 100 سال پہلے وہ بات پکڑی تھی۔ یہ جتنے بھی موضوعات ہیں ان میں 50 فیصد سے زیادہ کام اور شراکت داری خواتین کی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ کسان تو ہمارے گرافکس ڈیزائنر پگڑی باندھے ہوئے کسان کی تصویر بنا دیتے ہیں۔ کبھی بھی خاتون کو کسان کے طور پر تصویروں میں شامل نہیں کیا جاتا۔ یا تو وہ اپنے شوہر کے ساتھ سر پر گھونگھٹ ڈالے نظر آتی ہے یااپنے بچے کا ہاتھ تھامے ہوئے۔ خاتون خودمختاری کی بات ایسے کی جاتی ہے جیسے وہ کسی اور جزیرہ یا سیارہ سے آئی ہو۔ لیکن اگر آبی تحفظ کی بات کریں تو گھر کے اندر پانی کون لاتا ہے؟ شہروں میں صبح نل کے نیچے بالٹی کون لگاتا ہے؟ کون ہاتھ میں مٹکے لیے اور بچوں کا ہاتھ تھامے نظر آتا ہے؟ گاؤں میں جہاں پانی ہزار ہزار فیٹ نیچے چلا گیا ہے وہاں رسّی سے پانی کون کھینچتے نظر آتا ہے؟ آپ سبھی تصویر کو تلاش کر کے دیکھ لیجیے، 90 فیصد تصویروں میں خواتین اور لڑکیاں ہی یہ کام کرتی نظر آتی ہیں۔ اس لیے آبی تحفظ اور آبی ذرائع کے رکھ رکھاؤ کے کام میں خواتین کا بڑا کردار ہے۔ اس لیے مجھے امید ہے کہ بھوپیش جی جیسے کھلے دماغ کے وزیر اعلیٰ ان موضوعات میں خواتین کی شراکت داری پر نئی طرح کی سوچ کا راستہ کھولیں گے۔

سچ کا شروع میں مذاق بنتا ہے۔ گاندھی جی نے کہا تھا کہ ’’پہلے تو آپ پر ہنسیں گے۔ پھر سنجیدگی سے لیں گے اور پیٹیں گے۔ اور پھر آپ جیت جائیں گے۔‘‘ مجھے لگتا ہے کہ چھتیس گڑھ نے یہ تکلیف اپنے کندھوں پر لی ہے۔ اس نے وہ کام کیا ہے جس میں دیہی معیشت کو ایکدم نیا ڈھانچہ دیا ہے جس میں گاؤں کو مرکز میں رکھا جا رہا ہے۔ اس میں عورت کو بھی قطب پر رکھا جانا چاہیے۔ ویسے سیاسی لحاظ سے بھی یہ اہم ہے۔ 50 فیصد ووٹ بینک جس کے پاس ہو، وہ راجہ ہے۔ آخر میں چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ کو ان کی اس خوبصورت پیش قدمی کے لیے شکریہ۔ انھوں نے پہلی بار اس دور میں یہ ہمت دکھائی جب سب کچھ شہری، انگریزی اور عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ انھوں نے یہ جوکھم لیا ہے... گاندھی جی کی طرح۔