اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے وجے روپانی نے وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑا: ہاردک پٹیل

کانگریس لیڈر ہاردک پٹیل کا کہنا ہے کہ ’’آئندہ سال گجرات میں اسمبلی انتخاب ہونا ہے، الیکشن میں لوگوں کا سامنا کرنا ہے اس لیے وزیر اعلیٰ بدل کر بی جے پی لوگوں کی ناراضگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘

 وجے روپانی، تصویر آئی اے این ایس
وجے روپانی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ہفتہ کے روز گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے کر سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ گورنر سے ملاقات کر جب روپانی نے استعفیٰ دیا اور یہ خبر میڈیا میں آئی تو اپوزیشن کو بی جے پی پر حملہ کرنے کا بہترین موقع ملا اور کانگریس لیڈر ہاردک پٹیل نے تو واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے وجے روپانی نے ایسا کیا ہے۔

ہاردک پٹیل نے وجے روپانی کے استعفیٰ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’آئندہ سال گجرات میں اسمبلی انتخاب ہونے والا ہے۔ الیکشن میں لوگوں کا سامنا کرنا ہے اس لیے وزیر اعلیٰ بدل کر وہ لوگوں کی ناراضگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ نے گجرات میں کچھ کام نہیں کیا۔ اب مشکل حالات دیکھ کر عہدہ چھوڑ دیا۔ اگر انھیں (بی جے پی کو) وزیر اعلیٰ بدلنا تھا تو پہلے بدل دیتے، لیکن اس وقت بدلا جب الیکشن کے لیے محض ایک سال بچا ہے۔ یہ سب صرف لوگوں کے غصے کو کم کرنے کے لیے اور انھیں ورغلانے کے لیے کیا گیا ہے۔‘‘


یہاں قابل ذکر ہے کہ کچھ رپورٹس میں بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کے ذریعہ وجے روپانی پر استعفیٰ دینے کا دباؤ بنائے جانے کی بات کہی گئی ہے۔ حالانکہ اس تعلق سے کچھ بھی مصدقہ نہیں ہے، لیکن کئی ریاستوں میں بی جے پی نے اسی طرح وزرائے اعلیٰ کو تبدیل کیا ہے۔ نیا وزیر اعلیٰ بنا کر پرانے وزیر اعلیٰ کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہاردک پٹیل نے بھی روپانی کے عہدہ چھوڑنے پر سوال اٹھائے ہیں۔

ہاردک پٹیل نے وجے روپانی کے اس بیان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انھوں نے کہا کہ وہ گجرات کا چہرہ نہیں ہیں، بلکہ وزیر اعظم گجرات کا چہرہ ہیں۔ ہاردک پٹیل نے سوال کیا کہ اگر وزیر اعظم ریاست کا چہرہ ہیں تو کیا گجرات کے لوگ اپنے مسائل بتانے کے لیے وزیر اعظم کے پاس جائیں گے؟ انھوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ بی جے پی نے وزیر اعلیٰ بدل کر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کا بہانہ تلاش کر لیا ہے۔ لوگ جب حکومت کے کام پر سوال اٹھائیں گے تو کہا جائے گا کہ وزیر اعلیٰ نیا ہے۔ لیکن لوگ سمجھدار ہیں۔ سبھی کو پتہ ہے کہ اتراکھنڈ میں بھی یہی کام ہوا، کرناٹک میں بھی یہی کیا گیا، اور اب گجرات میں بھی الیکشن سے قبل وزیر اعلیٰ کو ہٹا دیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔