کورونا سےزیادہ اہم نفرت، تبدیلی مذہب، جہادی ایجنڈے کے خلاف وی ایچ پی کی وارننگ

کچھ لوگ ہندستان کو ’دارالعلوم‘ تو وہیں کچھ لوگ اسے ’لینڈ آف کرائسٹ‘، کنگڈم آف کرائسٹ اور سامراجی توسیع کا میدان جنگ بنانے میں مصروف ہیں۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

یو این آئی

وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نےکل الزام لگایا کہ کووڈ۔19وبا میں عیسائی اور اسلامی جہادی عناصر ہندو سماج کو کورونا انفیکشن کی طرح نشانہ بنانے اور تبدیلی مذہب کرانے کی سازشوں میں ملوث ہیں۔ وی ایچ پی نے وارننگ دی کہ اگر یہ عناصر اپنی سازشوں سے باز نہیں آئے تو ہندو سماج جوابی کارروائی کے لئے مجبور ہوگا۔

وشو ہندو پریشد کے جوائنٹ جنرل سکریٹری ڈاکٹر سریندر جین نے کل نامہ نگاروں سے کہاکہ ایک طرف جہاں پوری دنیا کورونا سے جدوجہد کررہی ہے اورہندو مٹھ۔مندر، گردوارے، آشرم اور ہندستانی سماج متاثرین کا دکھ دور کرنے کے لئے مختلف طرح سے خدمت میں مصروف ہیں وہیں انسانیت کے اس سنگین بحران کے دورمیں بھی چرچ اور جہادی عناصر منظم طریقہ سے اپنے غیرانسانی ایجنڈے کو نافذ کرنے میں مصروف ہیں۔


ڈاکٹر جین نے کہا کہ کچھ لوگ ہندستان کو ’دارالعلوم‘ تو وہیں کچھ لوگ اسے ’لینڈ آف کرائسٹ‘، کنگڈم آف کرائسٹ اور سامراجی توسیع کا میدان جنگ بنانے میں مصروف ہیں۔ ایک طرف جہاں اسلامک جہادی شاہین باغ، شیو وہار، سیلم پور، میرٹھ، اندور، اجین، باراں اور جے پور جیسے حملے اور جگہ جگہ ہندو وں کے گھروں میں گھس کر رنکو شرما کی طرح بے رحمانہ قتل میں ملوث ہیں وہیں چرچ خدمت کا لباس اوڑھ کر تبدیلی مذہب کرانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہاکہ اس سنگین انفیکشن کے دور میں وہ اپنی اس ذہنیت سے باز آئیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔