مسلم پرسنل لاء بورڈ کا بیان قابل مذمت: وی ایچ پی

وی ایچ پی نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلم سماج کو ترقی کے دھارے سے کاٹ کر دور ِتاریک کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

سوریہ نمسکار معاملہ اب طول پکڑتا جا رہا ہے اور کئی پارٹیوں کی کوشش ہے کہ اس کو اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں مدا بنائیں تاکہ انتخابات میں بنیادی مدوں پر بات نہ ہو سکے۔اب وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے مسلم پرسنل لا ءبورڈ کے مسلم بچوں کو سوریہ نمسکار کے پروگراموں میں حصہ نہ لینے سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کا بیان علاحدگی پسندی اور حکومت کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے ارادے سے دیا گیا ہے۔

وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے پیر کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلم سماج کو ترقی کے دھارے سے کاٹ کر دور ِتاریک کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ سوریہ نمسکار ایک ایسی ورزش ہے جس سے پورے جسم کی نشوونما ہوتی ہے لیکن سوریہ نمسکار کے خلاف ایسی زبان استعمال کرنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ علاحدگی پسندی کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے کر تباہی کے راستے کی جانب لے جانا چاہتے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے پہلے بھی تین طلاق کیس پر سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے خواتین کے خلاف انتہائی توہین آمیز زبان کا استعمال کیا تھا۔

مسٹر جین نے مسلم سماج سے اپیل کی کہ وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی باتوں میں نہ آکر ترقی کی راہ کا انتخاب کریں اور انھیں یہ احساس دلائیں کہ وہ مسلم برادری کی نمائندگی نہیں کرتے ۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 05 Jan 2022, 7:11 AM