ایودھیا میں رام مندر آدھے سے زیادہ تعمیر ہو چکا: وی ایچ پی

وی ایچ پی کا دعوی ہے کہ مندر کا نصف سے زیادہ کام مکمل ہو چکا ہے اور باقی کا فیصلہ آنے کے بعد مکمل ہو جائے گا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: ایودھیا کے بابری مسجد اراضی ملکیت تنازعہ سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہوچکی ہے اور عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ اب پوری دنیا کی نگاہیں اس فیصلہ پر محفوظ ہیں۔ ایودھیا میں سال 1992 میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا جبکہ مندر تعمیر کے لئے پتھر تراشنے کا کام وہاں 1990 سے جاری ہے۔ دراصل متنازعہ زمین پر مندر تعمیر کے مقصد سے ہندوو گرپوں باقاعدہ ایک ورک شاپ قائم کی ہوئی ہے، جس میں پتھر تراشنے کا کام کیا رہا تھا۔ اب وی ایچ پی کا دعوی ہے کہ پتھر تراشنے کا کام مکمل ہوچکا ہے اور مندر تعمیر کا کام بھی آدھے سے زیادہ مکمل ہو چکا ہے۔

وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے ترجمان شرد شرما نے میڈیا کو بتایا کہ رام جنم بھومی پر مجوزہ مندر 268 فٹ لمبا اور 140 فٹ چوڑا جبکہ 128 فٹ اونچا ہوگا۔ مندر کی پہلی چوٹی پر 10 فٹ چوڑا پریکرما (طواف) کرنے کا مقام تعمیر کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ مندر دو منزلوں پر مشتمل ہوگا اور دوسری منزل پر رام دربار اور اس کے اوپر چوٹی ہوگی۔ رام مندر کے ہر فرش پر 106 ستون اور ہر ستون میں 16 مجسمے ہوں گے۔ شرما نے کہا، ’’پورا مندر ایک لاکھ 75 ہزار مکعب پتھروں سے تعمیر کیا جانا ہے، جس میں سے سے ایک لاکھ مکعب فٹ سے زیادہ پتھر تراشے جا چکے ہیں۔‘‘

شرما نے کہا ، "رامالہ کا رقبہ تقریبا 77 77 ایکڑ پر ہے۔ رامجنما زمین نیاس نے 1992 میں تقریبا 45 ایکڑ میں رامکٹھہ کنج بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ہم نے اس کی تیاری کرلی ہے۔ رام کی پیدائش سے لے کر لنکا وجے تک۔" اور پھر ایودھیا تک واپسی تک فارم پتھروں پر کندہ ہوگا۔ 125 بت بنائے جانے ہیں۔ اب تک 24 بت مکمل ہوچکے ہیں۔ "

Published: 20 Oct 2019, 6:43 PM