کیرالہ ٹورزم کے ذریعہ ’بیف‘ پر کیے گئے ٹوئٹ سے وی ایچ پی چراغ پا

وی ایچ پی ترجمان ونود بنسل نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کیرالہ کے گورنر ،مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ،وزیر اعلی اور ریاستی سیاحت کے وزیر کو ٹیگ کیا کرتے ہوئے ان سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ترووننتپورم: وشو ہندو پریشد(وی ایچ پی)نے کیرالہ ٹورزم کے اس اشتہار پر سخت ردعمل کا اظہار کیاہے جس میں گائے کے گوشت اور ’بیف‘ سے بنے کھانوں کا ’ٹوئٹ‘ کے ذریعہ خصوصی طورپر ذکر کیاگیاہے۔ وی ایچ پی نے اس پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیرالہ حکومت کا یہ’بیف ٹوئٹ‘ گائے پوجا کرنے والوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا ہے۔

وی ایچ پی کے قومی ترجمان ونود بنسل نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’کیا یہ ٹوئٹ شنکر آچاریہ کی پاک زمین سے کیاگیاہے۔یہ ٹوئٹ سیاحت کو فروغ دینے والا ہے یا پھر گائےکے گوشت کے کھانے کے سلسلے میں اسے بنایا گیا ہے؟کیا یہ گائے کی بھکتی کرنے والے کروڑوں لوگوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچاتا؟‘‘ ونود بنسل کا کہنا ہے کہ کیرالہ کو اچھی طرح سے سمجھنا چاہئے کہ انہیں ایسی کسی چیز کو فروغ نہیں دینا چاہئے تاکہ گائے پوجا کرنے والے لاکھوں سیاحوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس سے گائے پوجا کرنے والوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔کیوں بائیں بازو کے لوگ بار بار ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔‘‘

وی ایچ پی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کیرالہ کے گورنر ،مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ،وزیر اعلی اور ریاستی سیاحت کے وزیر کو بھی ٹیگ کیا اور ان سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی۔

واضح رہے کہ کیرالہ ٹورزم نے ریاست میں سیاحت کو فروغ دینے والے ایک اشتہار میں گائے کے گوشت سے بنے کھانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’گائے کے گوشت کے ٹکڑے،مسالوں سے بھنے اور ناریل کے ٹکڑوں اور کری پتوں کے ساتھ،مسالوں کی زمین میں ’بیف الارتھییاتھو‘سب سے کلاسک پکوان کی ایک شکل ہے۔‘‘ کیرالہ ٹورزم کا یہ ٹوئٹ 15 جنوری کو کیا گیا تھا اور اس وقت پورے ملک میں میں مکر سنکرانتی اور پونگل کا تہوار منایا جایا رہا تھا۔