’سپریم کورٹ کے فیصلہ کا احترام، لیکن یہ فیصلہ قانون کے برعکس‘

مولانا تاجدار کا کہنا ہے کہ ’’فیصلہ جو ہونا تھا ہو گیا، لیکن اندیشہ ہے کہ کل کو کاشی و متھرا کی آواز اٹھ سکتی ہے اور پھر ایک مرتبہ ملک کو امتحان سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘

6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے اوپر کھڑے  ہندو کار سیوک
6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے اوپر کھڑے ہندو کار سیوک

یو این آئی

پرتاپ گڑھ : مائنارٹیز ویلفیئر سوسائٹی کے صدر مولانا تاجدار احمد نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں مگر فیصلہ عقیدے (آستھا)کی بنیاد پر قانون کے برعکس ہے۔انہوں نے ’یواین آئی‘ سے بات چیت کرتے ہوئے مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔

مولانا تاجدار نے کہا کہ فیصلہ خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ عدالت نے ملک کو بچانے کے لئے درمیانی راستہ اختیار کیا۔ سنّی وقف بورڈ کا عتراض تھا کہ 1949 میں مورتی غلط طریقے سے رکھی گئی اور بابری مسجد کو طاقت کے زور پر منہدم کیا گیا۔عدالت عالیہ نے سنی وقف بورڈ کے دعوی کو تسلیم کرتے ہوئے مورتی رکھنے و مسجد انہدام کو غیر قانونی قرار دیا۔

مائناریٹیز سوسائٹی کے صدر نے بات چیت کے دوران واضح لفظوں میں کہا کہ مسجد جہاں ایک مرتبہ تعمیر ہو جاتی ہے وہ تا قیامت تک مسجد رہتی ہے۔انھوں نے کہا کہ عدالت نے نرموہی اکھاڑے کے مقدمہ کو خارج کر دیا اور رام کی پیدائش کی جگہ ثابت نہیں ہو پائی۔اس طرح سارے ثبوت مندر کے خلاف تھے۔اس سے یہی پیغام جا رہا ہے کہ عدالت عالیہ نے اکثریت کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے صرف ملک کو بچانے کیلئے فیصلہ مندر کے حق میں دے کر مسجد کو اراضی دینے کا حکم دیا ہے۔

مولانا تاجدار کا کہنا ہے کہ عدالت عالیہ نے 1949 سے قبل مسجد کے وجود کو تسلیم کیا کہ وہاں نماز پڑھی جاتی تھی۔ آثار قدیمہ کی رپورٹ کو پوری طرح صحیح نہیں مانا جا سکتا لیکن فیصلہ اسی بنیاد پر مالکانہ حق ایک فریق کو دے دیا گیا۔ عدالت عالیہ کے فیصلے کا مسلمانوں نے احترام کرتے ہوئے پوری طرح صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے خاص طور سے ایک بات یہ کہی کہ فیصلہ جو ہونا تھا ہو گیا لیکن اندیشہ ہے کہ کل کو کاشی و متھرا کی آواز اٹھ سکتی ہے اور پھر ایک مرتبہ ملک کو امتحان سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ملک میں امن امان رہے اسی میں ملک و قوم کا مفاد ہے۔یکجہتی و خیر سگالی ہی ملک کا مزاج ہے جس کو بنائے رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔