وارانسی کی گیان واپی مسجد کے خلاف مقدمہ پر کل سماعت

درخواست گزار نے دعوی کیا ہے کہ کاشی وشوناتھ مندر 2050 سال قبل تعمیر ہوا تھا لیکن مغل بادشاہ اورنگ زیب نے 1664 میں اس مندر کو تباہ کر دیا اور اس کی باقیات کا ایک مسجد کی تعمیر کے لئے استعمال کیا

گیان واپی مسجد - کاشی وشو ناتھ / آئی اے این ایس
گیان واپی مسجد - کاشی وشو ناتھ / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

وارانسی: کاشی وشو ناتھ مندر اور گیان واپی مسجد معاملہ کی سماعت پیر کے روز یعنی کل کی جائے گی۔ دسمبر 2019 میں ایڈوکیٹ وجے شنکر رستوگی نے ’سومبھو جیوترلنگا بھگوان وشویشور‘ کی جانب سے سول جج کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں آثار قدیمہ (اے ایس آئی) کے ذریعے گیان واپی کمپلیکش کا سروے کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

یہ درخواست ’سومبھو جیوترلنگا بھگوان وشویشور‘ کے نیکسٹ فرینڈ (نمائندہ) کی حیثیت سے دائر کی گئی تھی۔ بعدازاں، جنوری 2020 میں انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی نے جواب داخل کرتے ہوئے گیان واپی مسجد اور احاطہ کا اے ایس آئی کے ذریعے سروے کرانے کا مطالبہ کیا۔ خیال رہے کہ گیاناوپی میں پوجا کی اجازت کے لئے پہلی درخواست 1991 میں دائر کی گئی تھی۔

درخواست گزار نے دعوی کیا ہے کہ کاشی وشوناتھ مندر تقریبا 2050 سال قبل مہاراجہ وکرم آدتیہ نے تعمیر کرایا تھا لیکن مغل بادشاہ اورنگ زیب نے 1664 میں اس مندر کو تباہ کر دیا اور اس کی باقیات کا ایک مسجد کی تعمیر کے لئے استعمال کیا، اسے ہی مندر کی زمین پر تعمیر کردہ مسجد گیان واپی کہا جاتا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ مسجد کو مندر کی سرزمین سے ہٹانے اور اس کا قبضہ مندر ٹرسٹ کو واپس کرنے کی ہدایت جاری کرے۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ میں مقام عبادت (خصوصی دفعات) کا اطلاق نہیں کیا گیا ہے کیونکہ یہ مسجد جزوی طور پر منہدم کردہ مندر کے اوپر تعمیر کی گئی تھی جہاں آج بھی مندر کے بہت سے حصے موجود ہیں۔ سال 1998 میں انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی نے ہائی کورٹ میں یہ کہتے ہوئے رجوع کیا کہ مندر - مسجد کے تنازعہ پر فیصلہ کسی بھی سول عدالت کے ذریعہ نہیں لیا جا سکتا کیونکہ یہ قانونی طور پر درست نہیں تھا۔

ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت میں کارروائی پر روک لگا دی جو پچھلے 22 سالوں سے جاری ہے۔ فروری 2020 میں درخواست گزاروں نے سماعت کو دوبارہ شروع کرنے کی درخواست کے ساتھ ذیلی عدالت سے رجوع کیا کیونکہ گذشتہ چھ ماہ میں ہائی کورٹ نے قیام التوا میں توسیع نہیں کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 21 Mar 2021, 1:40 PM