اسپتال نے اشتہار دے کر مسلمانوں کا علاج کرنے کی لگائی شرط، ہنگامہ کے بعد مانگی معافی

اسپتال نے اشتہار دے کر تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں پر کورونا وائرس پھیلانے کا الزام لگاتے ہو کہا کہ جماعت کے لوگوں کو اسپتالوں میں داخل کیا جاتا، لیکن یہ لوگ طبی عملے کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ملک میں پرکورونا وائرس کے خلاف جنگ جاری ہے، ملک بھر میں کورونا کے خلاف مل جل کر کھڑے ہونے کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس دوران اتر پردیش کے میرٹھ سے ایک شرمناک معاملہ سامنے آیا ہے، یہاں کے ایک نجی اسپتال نے مسلم کمیونٹی کے ایک طبقے کو کورونا وبا کا خطرہ بتا کر ان کے علاج پر پابندی لگا دی۔ ساتھ ہی اسپتال نے اس سلسلے میں اخبار میں ایک اشتہار بھی دے دیا۔ سوشل میڈیا پر اشتہارات کے وائرل ہونے کے بعد ہنگامہ مچ گیا۔ اس کے بعد اسپتال نے دوبارہ اخبار میں وضاحت دے کر معافی مانگی ہے۔ میرٹھ کے ویلینٹس کینسر اسپتال کی جانب سے یہ اشتہار اخبار میں چھپوايا گیا تھا۔

اسپتال نے اخبار میں اشتہار دے کر تبليغی جماعت سے وابستہ لوگوں پر پرکورونا وائرس کا انفیکشن پھیلانے کا الزام لگایا، اشتہار میں کہا گیا کہ تبليغی جماعت کے متاثرہ لوگوں کو ملک بھر کے اسپتالوں میں داخل کرایا جا رہا ہے، لیکن یہ لوگ ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے ساتھ بدتمیزی کر رہے ہیں، اشتہار میں کہا گیا کہ کورونا وبا کو دیکھتے ہوئے ہمارا اسپتال مخصوص مذہب کے بھائیوں سے درخواست کرتا ہے کہ اگر انہیں اسپتال آنا ہو، تو خود اور ایک تيماردار کا چیک اپ کرائیں، جانچ رپورٹ نگیٹو ہو، تبھی اسپتال آئیں۔ اشتہار میں کہا گیا کہ کورونا وبا جاری رہنے تک یہ اصول جاری رہے گا۔

ظاہر ہے اگر اسپتال اس طرح کی پابندیاں لگانے لگے تو کورونا وائرس وبا پھیلنے کا خطرہ اور بھی بڑھ جائے گا، ادھر، معاملہ بڑھتا دیکھ اسپتال نے معافی مانگ لی ہے۔ وہیں، یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد میرٹھ پولیس نے بھی اپنی رائے دی ہے۔ پولیس کی جانب میں ایک بیان میں کہا گیا کہ اس سلسلے میں تھانہ انچارج انچولی کو ضروری کارروائی کی ہدایات دی گئی ہیں۔

next