حمل میں ہی بچوں کو ’سنسکاری‘ بنانے کی تیاری مکمل، جنوری سے شروع ہوگا کورس!

چھترپتی شاہو جی مہاراج یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نیلم گپتا نے کہا کہ آج کل اس اہم موضوع پر کوئی دھیان نہیں دے رہا ہے۔ لوگوں کی بیداری کے لیے یہ کورس شروع کیا جا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کی ماؤں کے حمل میں پرورش پانے والے بچے اب ’سنسکاری‘ (مہذب) ہوں گے۔ کانپور یونیورسٹی نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے۔ کانپور کے چھترپتی شاہوجی مہاراج یونیورسٹی نے اس سلسلے میں ایک مہم شروع کرنے کی تیاری پوری کر لی ہے۔ حمل میں بچوں کو مہذب بنانے کے لیے ماؤں کو طریقہ بتایا جائے گا اور ضروری تعلیم دی جائے گی۔ یکم جنوری سے شروع ہونے والے اس کورس میں حاملہ خواتین کے ساتھ غیر شادی شدہ لڑکیوں کو بھی داخلہ دیا جائے گا۔

چھترپتی شاہوجی مہاراج یونیورسٹی (سی ایم جے ایم یو) کی وائس چانسلر پروفیسر نیلما گپتا نے کہا کہ آج کل اس اہم موضوع پر کوئی دھیان نہیں دے رہا ہے۔ لوگوں کی بیداری کے لیے یہ کورس شروع کیا جا رہا ہے۔ ابھی شروع میں اس کورس کی مدت تین اور چھ مہینے کی رہے گی۔ پڑھائی پوری ہونے کے بعد سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ حالانکہ داخلہ کے لیے حاملہ خواتین کے ساتھ ہی غیر حاملہ خواتین بھی درخواست کر سکتی ہے۔ اس میں 12ویں کے بعد داخلہ کے لیے درخواست کیا جائے گا۔

پروفیسر نیلما گپتا نے بتایا کہ اسی مہینے اکیڈمی کونسل کی میٹنگ میں یہ کورس پاس کرانے کے بعد یکم جنوری سے اس کے کلاسز شروع ہوجائیں گے۔ ابھی شروعات میں سرٹیفکیٹ کورس شروع کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں میں بیداری پیدا ہو۔ وائس چانسلر پروفیسر نیلما نے یہ بھی بتایا کہ اس کورس کو شروع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حاملہ خواتین آنے والی نسل کا مستقبل سنوارنے اور ان کو مذہب بنانے کے تئیں بیدار ہوں۔ انھوں نے بتایا کہ ’’اس میں گنیش شنکر ودیارتھی میڈیکل کالج کے پروفیسر گیسٹ لیکچرر ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہمارے یہاں کے پیرا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے ٹیچرس بھی اس میں پڑھائیں گے۔ انہی کی دیکھ ریکھ میں یہ کورس چلایا جائے گا۔‘‘

انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنس کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر پروین کٹیار نے اس سلسلے میں بتایا کہ سی ایس جے ایم یو ریاست کی پہلی یونیورسٹی ہوگی جہاں اس طرح کا کورس شروع ہو رہا ہے۔ یہ کورس یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں چلایا جائے گا۔ تین ماہ کے کورس کا نام ’سرٹیفکیٹ کورس ان گربھ سنسکار‘ اور چھ ماہ والا ’ایڈوانس سرٹیفکیٹ کورس ان سنسکار‘ کے نام سے چلے گا۔ حاملہ خواتین کو دوران حمل تہذیب دینے کی پوری تیاری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ نئے سال میں ’گربھ سنسکار‘ کی پڑھائی شروع ہو جائے گی۔

دراصل 11 ستمبر کو ہوئے 34ویں تقریب تقسیم اسناد میں گورنر آنندی بین پٹیل نے ’گربھ سنسکار‘ شروع کرانے کی بات کہی تھی۔ اس دوران انھوں نے اپنی تقریر کے دوران زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ طالبات آگے چل کر ماں بنیں گی، بھاگ دوڑ بھری اور تناؤ والی زندگی کا ان کی اولاد پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اگر وہ سنسکاروں کی جانکاری رکھیں گی تو یقینی طور پر ان کی اولاد پر اچھا اثر پڑے گا۔ انہی کی ہدایات کے بعد یونیورسٹی اس کورس کو شروع کرنے کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔