اتراکھنڈ میں اڈانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ٹینڈر کی 86 میں سے 84 شرائط بدل دی گئیں: پون کھیڑا
کانگریس نے اتراکھنڈ میں 1320 میگاواٹ بجلی کی خرید کے ٹینڈر میں 86 میں سے 84 شرائط بدلنے کا الزام لگایا۔ پون کھیڑا نے کہا کہ اس سے اڈانی پاور کو فائدہ پہنچا اور 25 سال کا معاہدہ ہوا

نئی دہلی: کانگریس نے اتراکھنڈ میں 1320 میگاواٹ کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی طویل مدتی خریداری کے معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت پر ٹینڈر کے ضوابط میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کر کے اڈانی پاور کو فائدہ پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی کے میڈیا اور پبلسٹی شعبے کے سربراہ پون کھیڑا نے جمعرات کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹینڈر کی 86 شرائط میں سے 84 کو تبدیل کیا گیا۔
کھیڑا نے کہا کہ 2024 میں اتراکھنڈ حکومت نے سرکاری شعبے کی کمپنیوں ’یو جے وی این‘ اور ’ٹی ایچ ڈی سی‘ کے مشترکہ منصوبے کے ذریعے 1320 میگاواٹ کا تھرمل پاور پلانٹ لگانے کی تجویز پیش کی تھی۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے لیے کوئلے کی فراہمی کے سلسلے میں مرکزی حکومت سے بھی منظوری حاصل کی گئی تھی۔ تاہم، تقریباً چھ ماہ بعد جنوری 2025 میں اس مشترکہ منصوبے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کانگریس لیڈر کے مطابق اس کے بعد 3 فروری 2025 کو اتراکھنڈ پاور کارپوریشن لمیٹڈ (یو پی سی ایل) نے 1320 میگاواٹ بجلی کی خرید کے لیے نیا ٹینڈر جاری کیا۔ کھیڑا نے دعویٰ کیا کہ اسی روز اڈانی پاور نے چھتیس گڑھ کے کوربا میں اپنے مجوزہ پاور پلانٹ کی توسیع کے لیے ماحولیاتی منظوری کی درخواست بھی داخل کی۔ انہوں نے دونوں واقعات کے ایک ہی دن ہونے پر سوال اٹھایا۔ یہ دعویٰ کانگریس کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔
پون کھیڑا نے کہا کہ ٹینڈر کی 86 شرائط میں سے 84 تبدیل کی گئیں۔ ان کے مطابق نئی شرائط میں یہ بھی شامل کیا گیا کہ مکمل 1320 میگاواٹ بجلی ایک ہی بولی لگانے والے سے حاصل کی جائے گی اور پاور پلانٹ ہندوستان میں کہیں بھی واقع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت میں طویل فاصلے سے بجلی اتراکھنڈ پہنچانے کی ٹرانسمیشن لاگت بھی ریاست کے صارفین پر پڑے گی۔
کھیڑا نے مزید کہا کہ بجلی کی خرید کے معاہدے میں مقررہ چارج کی حد 70 فیصد سے بڑھا کر 75 فیصد کرنے کی شرط رکھی گئی۔ ان کے مطابق اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بجلی لی جائے یا نہ لی جائے، کمپنی کو مقررہ ادائیگی کی ضمانت حاصل رہے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ انتظام 25 سال تک جاری رہے گا۔
کانگریس لیڈر نے کوئلے کی سپلائی سے متعلق بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ چھتیس گڑھ کے ایک کوئلہ بلاک میں اڈانی گروپ سے وابستہ کمپنی کو مائن ڈیولپر اینڈ آپریٹر بنایا گیا ہے اور اس پورے انتظام میں کان کنی، کوئلے کی نقل و حمل اور بجلی کی پیداوار سے لے کر فروخت تک مختلف مراحل اڈانی گروپ سے منسلک ہو جاتے ہیں۔
پون کھیڑا نے دعویٰ کیا کہ 25 سالہ پاور پرچیز ایگریمنٹ کی مجموعی مالیت تقریباً 1.6 لاکھ کروڑ روپے بنتی ہے۔ حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اتراکھنڈ کابینہ نے اڈانی پاور سے 25 سال کے لیے 1320 میگاواٹ بجلی خریدنے کی منظوری دی ہے، جبکہ ریگولیٹری ریکارڈ میں بھی 1320 میگاواٹ کی طویل مدتی کوئلہ پر مبنی بجلی خریداری سے متعلق کارروائی درج ہے۔
کھیڑا نے اس پورے معاملے کو ’مودانی ماڈل‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ سرکاری شعبے کے مشترکہ منصوبے کو ختم کر کے ٹینڈر کی اتنی بڑی تعداد میں شرائط کیوں تبدیل کی گئیں۔ جے رام رمیش نے بھی ایکس پر الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت نے اڈانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوامی مفاد کو نظرانداز کیا ہے۔ ان الزامات پر اتراکھنڈ حکومت یا اڈانی گروپ کا مؤقف اس خبر کے لیے دستیاب مواد میں شامل نہیں ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
