ٹیچر یونین انتخابات میں حق رائے دہی پر اتراکھنڈ ہائی کورٹ سخت، سکریٹری تعلیم کو جواب داخل کرنے کا حکم
ڈاکٹر انکت جوشی نے واضح طور پر کہا ہے کہ یونین کا ہر رکن برابرہے۔ جمہوریت میں براہ راست ووٹ دینے کا حق بنیادی روح ہے، کسی کو بھی ووٹ کے حق سے محروم رکھنا مساوات اور قدرتی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔

اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ٹیچر یونین کے انتخابات میں اساتذہ کو براہ راست ووٹنگ کے حق سے محروم کرنے کے معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے سیکریٹری تعلیم، سیکریٹری آف پرسنل اور ڈائریکٹر سیکنڈری ایجوکیشن کو حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔
گورنمنٹ انٹر کالج برانسکھنڈہ کے ترجمان ڈاکٹرانکت جوشی نے ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کرکے موجودہ ڈیلیگیٹ سسٹم کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نظام جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ عرضی گزار کے مطابق موجودہ نظام ہزاروں اساتذہ کو ان کے ووٹ کے بنیادی حق سے محروم کر دیتا ہے۔ فی الحال صرف چنندہ ڈیلیگیٹ کو ہی ٹیچر یونین کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق ہے جبکہ باقی اساتذہ اس عمل سے پوری طرح باہر ہیں۔
درخواست گزار نے پہلے سیکریٹری اسکولی تعلیم، سیکرٹری لیبر اور ڈائریکٹر آف سیکنڈری ایجوکیشن کو درخواست دی تھی لیکن نہ تو وقت پر جواب موصول ہوا اور نہ ہی کوئی کارروائی ہوئی۔ اس کے بعد انہیں مجبوراً ہائی کورٹ سے رجوع کرنا پڑا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جمعہ کو ہائی کورٹ نے تمام متعلقہ محکموں اور ریاستی ٹیچر یونین کو جوابی حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کی اگلی سماعت 13 اپریل کو مقرر کی گئی ہے۔
ڈاکٹر انکت جوشی نے واضح طور پر کہا ہے کہ یونین کا ہر رکن برابر ہے۔ جمہوریت میں براہ راست ووٹ دینے کا حق بنیادی روح ہے، کسی کو بھی ووٹ کے حق سے محروم رکھنا مساوات اور قدرتی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ یونین کے آئین میں فوری طور پر ترمیم کی جانی چاہیے۔ اگرعدالت درخواست کو منظور کر لیتی ہے تو اتراکھنڈ میں ٹیچر یونین انتخابات کا پورا ڈھانچہ بدل جائے گا۔ ہر استاد کو براہ راست اپنا نمائندہ منتخب کرنے کا حق ملے گا۔ فی الحال 13 اپریلئ کی سماعت پر پوری تدریسی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔