اتراکھنڈ حکومت انتخابی کمیشن کی ہدایات کی دھجیاں اڑا رہی، ہریش راوت کا الزام

ہریش راوت نے کہا کہ انتخاب کے لیے تاریخوں کے اعلان کے بعد آبکاری محکمہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر تبادلے کیے گئے جو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

تصویر ٹوئٹر @INCUttarakhand
تصویر ٹوئٹر @INCUttarakhand
user

قومی آوازبیورو

اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں ریاست کی بی جے پی حکومت پر انتخابی کمیشن کی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے بی جے پی حکومت پر انتخابی تاریخوں کے اعلان کے بعد آبکاری محکمہ کے ذریعہ کچھ اہم احکام جاری کرنے اور مختلف محکموں میں بڑے پیمانے پر تبادلے کا الزام عائد کیا ہے۔

ہریش راوت نے کہا کہ انتخاب کے اعلان کے بعد آبکاری محکمہ کی جانب سے حکم جاری کیا گیا۔ اس کے ذریعہ کروڑوں روپے کا کھیل کھیلا گیا۔ اتنا ہی نہیں، آبکاری، تعلیم، صحت، کوآپریٹو محکمہ میں جاننے والوں کو پوسٹنگ دی گئی۔ محکمہ تعلیم میں کھلے طور پر چھٹی کے دن 600 سے زائد تبادلے کے احکام جاری کیے گئے۔


ہریش راوت نے کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد تقرریاں کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس معاملے میں کانگریس نے انتخابی کمیشن کے پاس شکایت درج کرائی ہے۔ کانگریس نے انتخابی کمیشن سے عہدیداروں کے معاملے میں نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جن افسران کے حکم سے عہدیداروں کی تقرری کی جا رہی ہے، ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

غور طلب ہے کہ گزشتہ ہفتے 8 جنوری کو انتخابی کمیشن نے اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخاب کی تاریخوں کا اعلان کیا تھا۔ انتخابی تاریخوں کے اعلان کے بعد انتخابی ریاستوں میں ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ نافذ ہو جاتا ہے۔ اس کے تحت حکومتیں کوئی نیا منصوبہ یا پالیسی کا اعلان نہیں کر سکتی ہے۔ ساتھ ہی حکومتیں بغیر کمیشن کی اجازت لیے سرکاری افسران-ملازمین کے تبادلے بھی نہیں کر سکتی ہے۔ ایسے میں بی جے پی حکومت کے ذریعہ اتنے بڑے پیمانے پر تبادلہ کیے جانے پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔