اتراکھنڈ: شدید برف باری کے باعث ’کیدار تال‘ ٹریک سے بنگال کے 5 ٹریکرز سمیت 8 افراد لاپتہ، ریسکیو آپریشن جاری

اہل خانہ نے بتایا کہ پہاڑی علاقے میں پہنچنے کے بعد سے وہ کوہ پیماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے، تاہم گزشتہ دو تین دنوں سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

اتراکھنڈ میں ٹریکنگ کے دوران برفانی تودہ گرنے اور اچانک شدید برف باری میں پھنس جانے کے باعث مغربی بنگال کے بانکورہ ضلع کے 5 ٹریکرز سمیت ایک مہماتی ٹیم کے 8 اراکین لاپتہ ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کی اطلاع منگل (3 نومبر) کو ایک سرکاری افسر نے دی۔ بانکورہ کے لاپتہ ٹریکرز کی شناخت تاپس باؤری، رتن گھوش، رنٹو منڈل، ادے گھوش اور منوج کھواس کے طور پر ہوئی ہے۔ ان میں سے پہلے 4 سالبانی گاؤں کے رہنے والے ہیں، جبکہ منوج اسی ضلع کے کیشرا گاؤں کے رہائشی ہیں۔ لاپتہ ہونے والے دیگر 3 اراکین میں سے 2 اتر پردیش کے لکھنؤ اور ایک اتراکھنڈ کے اترکاشی سے تعلق رکھتے ہیں۔

بانکورہ کے پانچوں ٹریکرز 24 اکتوبر کو اتراکھنڈ کے لیے روانہ ہوئے تھے اور انہیں نومبر کے آغاز میں گھر واپس لوٹنا تھا۔ اس واقعے کے بعد مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے لاپتہ ٹریکرز کی سلامتی کے حوالے سے تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ریاستی حکومت اتراکھنڈ کے افسران کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ پر ایک پوسٹ میں اتراکھنڈ کے کیدار تال ٹریک پر خراب موسم اور شدید برف باری کے باعث بانکورہ کے 5 نوجوان ٹریکرز کے لاپتہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے اتراکھنڈ حکومت اور ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔


رپورٹس کے مطابق 4 شیرپاؤں اور ایک معاون سمیت 12 اراکین پر مشتمل ایک مہماتی ٹیم گنگوتری سے کیدار تال کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ ٹیم نے مقررہ دن پر بیس کیمپ سے اپنا سفر شروع کیا۔ تاہم تقریباً 4 ہزار میٹر کی بلندی پر واقع پہاڑی علاقے میں آگے بڑھتے ہوئے ٹیم کے بیشتر اراکین اچانک ہونے والی برف باری میں پھنس گئے اور لاپتہ ہو گئے۔ مہماتی ٹیم کے 4 اراکین، جن میں ایک شیرپا اور ایک معاون بھی شامل تھے، بالآخر 30 اکتوبر کو اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ بعد میں انہوں نے افسران کو اطلاع دی کہ ٹیم کے باقی 8 اراکین لاپتہ ہیں۔

اس اطلاع کے بعد اتراکھنڈ حکومت نے تلاش اور بچاؤ مہم شروع کی۔ اتراکھنڈ سول ایوی ایشن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے زیر انتظام ایک ہیلی کاپٹر کی مدد سے اتراکھنڈ ایس ڈی آر ایف کی ایک ٹیم گزشتہ 2 دن سے لاپتہ افراد کی تلاش میں پہاڑی علاقے میں سرچ آپریشن کر رہی ہے، حالانکہ اب تک کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔ اتراکھنڈ حکومت نے کہا ہے کہ زیادہ بلندی والے علاقے میں خراب موسمی حالات کے باعث بچاؤ مہم میں مسلسل رکاوٹ آ رہی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے لاپتہ کوہ پیماؤں کے اہل خانہ سے رابطہ کر کے انہیں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔


بانکورہ کے ضلع مجسٹریٹ انیش داس گپتا نے منگل کو بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے اہل خانہ سے رابطہ کیا اور انہیں ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ اہل خانہ نے بتایا کہ پہاڑی علاقے میں پہنچنے کے بعد سے وہ کوہ پیماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے، تاہم گزشتہ دو تین دنوں سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ لاپتہ کوہ پیماؤں کے موبائل فون بھی بند ہیں، جس سے ان کے اہل خانہ کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔