باندہ: مسلم علاقوں میں گوشت کی دکانیں وی ایچ پی نے جبراً بند کرائیں، حالات کشیدہ

اے ایس پی بھرت لال نے بتایا کہ جمعہ کی دوپہر وی ایچ پی کے تقریباً 60 کارکنان موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر شہر میں نکلے اور گھوم گھوم کر گوشت کی تقریباً 100 مبینہ طور پر غیرقانونی دکانوں کو بند کروایا۔

تصویر اے آئی این ایس
تصویر اے آئی این ایس

قومی آوازبیورو

باندہ: اتر پردیش کے باندہ شہر میں جمعہ کے روز ہندو شدت پسند تنظیم وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے کارکنان نے شہر میں گھوم گھوم کر گوشت کی دکانوں کو بند کرا دیا، جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے۔ وی ایچ پی کارکنان کا کہنا ہے کہ انہوں نے غیر قانونی دکانوں کو بند کرایا ہے۔ اس واقعہ کے بعد پولس سپرنٹنڈنٹ کو تقریباً ایک ہزار پولس اہلکاروں کے ساتھ شہر میں پیدل مارچ کرنا پڑا۔ مسلم طبقہ کے لوگوں کا الزام ہے کہ وی ایچ پی کارکنان پولس کے ساتھ مسلم علاقوں میں پہنچے اور انہوں نے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی۔

اڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولس (اے ایس پی) بھرت لال پال نے بتایا، ’’جمعہ کی دوپہر وی ایچ پی کے تقریباً 60 کارکنان موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر شہر میں نکلے اور گھوم گھوم کر گوشت کی تقریباً 100 مبینہ طور پر غیرقانونی دکانوں کو بند کروایا۔ اس کے بعد شہر کے مسلم اکثریتی علاقہ ہاتھی خانہ میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ وی ایچ پی کارکنان اور خاص طبقہ (مسلمانوں) کے درمیان تیکھی نوک جھونک بھی ہوئی۔ ‘‘

انہوں نے کہا، ’’ضلع کے تقریباً تمام تھانوں سے پولس فورس شہر میں طلب کر لی گئی ہے اور معاملہ کی نگہداشت کی جا رہی ہے۔ شام کو پولس سپرنٹنڈنٹ گنیش پرساد سہائے نے تقریباً ایک ہزار پولس کے جوانوں کے ہمراہ شہر کے دیگر محلوں کے ساتھ ہاتھی خانہ محلہ میں پیدل مارچ نکالا، دونوں فرقوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔ ‘‘

محلہ ہاتھی خانہ کی ایک مقامی خاتون حنا خان نے میڈیا سے کہا، ’’تقریباً 150 موٹرسائیکلوں پر سوار بھگوا دھاری لوگ پولس کی حفاظت میں ان کے محلے میں آئے، ’جے شری رام ‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے ان کے گھروں کے دروازے کھٹکھٹائے اور مسلمانوں کو بھدی بھدی گالیاں دیں۔ اس وقت گھروں میں صرف خواتین اور بچے ہی موجود تھے۔‘‘

خاتون نے مزید کہا، ’’حال ہی میں تبریز انصاری کا ’جے شری رام ‘ کا نعرہ بلوا کر اس کا کام تمام کر دیا گیا۔ بچوں کو کچھ معلوم نہیں، انہیں صرف اتنا پتہ ہے کہ یہ لوگ آتے ہیں، جے شری رام کے نعرے لگاتے ہیں اور مسلمانوں کو مار کر چلے جاتے ہیں۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ محلے کے مرد جب اپنی دکانیں بند کر کے شام کو گھر واپس لوٹے تو سبھی اکٹھا ہو کر پولس اور ضلع انتظامیہ کے افسران سے ملاقات کی اور ان بھگوا دھاریوں کے ارادوں کی جانچ اور کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

ادھر وی ایچ پی کے ضلع سربراہ چندر موہن بیدی نے کہا، ’’شہر میں زیادہ تر گوشت کی دکانیں غیر قانونی ہیں۔ انہیں ہٹوانے کے لئے ضلع مجسٹریٹ کو 3 جولائی کو مکتوب دیا گیا تھا۔ جب ضلع مجسٹریٹ نے کچھ نہیں کیا تو آج وی ایچ پی کارکنان ان دکانوں کو بند کرانے کے لئے پولس کے ساتھ گئے تھے۔ ‘‘

چندر موہن نے مزید کہا، ’’ہاتھی خانہ محلہ میں غیر قانونی طریقہ سے بھینس کو ذبح کرنے کے ثبوت اور گلیوں میں گوشت کے ٹکڑے برآمد ہوئے ہیں، جنہیں پولس افسران کو دکھایا گیا ہے۔ لیکن کسی بھی کارکن نے کسی کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی ہے۔ ‘‘

پولس سپرنٹنڈنٹ گنیش پرساد سہائے نے بتایا کہ ہاتھی خانہ محلہ میں جمعہ کی شام 7 بجے سے صبح 7 بجے باندہ نگر، کالنجر اور اترا تھانہ کے انچارجوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، معاملہ کی جانچ کر کے معقول کارروائی ہوگی۔ اب علاقہ میں حالات پُر امن ہیں۔ ‘‘

Published: 20 Jul 2019, 7:10 PM