پولس کے فرضی انکاونٹرزسے سہم رہا اتر پردیش: اکھلیش

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ ’’وزیر اعلی اسمبلی میں ڈرانے والی زبان بولتے ہیں اور پولس والوں سے کہتے ہیں’ ٹھوک دو ان کو‘۔ فرضی انکاؤنٹر اسی بیان کا نتیجہ ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لکھنو: سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے یوگی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ ریاست میں بڑھ رہے فرضی تصادم اس کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولس کو فرضی مڈبھیڑ کے لئے اکسانے کا ہی نتیجہ ہے کہ ایک بین الاقوامی کمپنی کے افسر کا قتل کر دیا گیا۔

اکھلیش یادو نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایپل کمپنی کے افسر کے قتل نے اتر پردیش کو پوری دنیا میں شرمسار کیا ہے۔ریاست میں قانون کا نظام نیست و نابود ہوچکا ہے ۔ ملزم تو کیا پولس والے ہی اب عام شہریوں کے جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ریاست میں ایک کے بعد ایک ہو رہے فرضی انکاونٹر سے پوری ریاست سہمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کے وزیر اعلی اور نائب وزیر اعلی پر مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ ایس پی مسلسل یہ کہتی رہی ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی کی حکومت سے قانون اور انتظام و انصرام کی بہتری کی توقع رکھنا فضول ہے۔ وزیر اعلی اسمبلی میں ڈرانے کی زبان بولتے ہیں ۔وہ پولس والوں سے کہتے ہی’’ ٹھوک دو ان کو‘‘ ۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ پولس کھلے عام لوگوں کو گولی مار رہی ہے۔

سابق وزیر اعلی نے کہا کہ اس سے پہلے علی گڑھ تصادم کے ضمن میں پورے ملک میں بی جے پی حکومت پر سوالیہ نشان لگے ہیں۔ حقوق انسانی کمیشن کی طرف سے جتنے نوٹس اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کو ملے ہیں اتنے کسی بھی حکومت کو نہیں موصول ہوئےہیں۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

Published: 1 Oct 2018, 6:09 PM