اتر پردیش میں ’ایک ضلع، ایک کھانا‘ کی فہرست تیار، سبزی کو ترجیح، گوشت کو نہیں ملی جگہ

اتر پردیش حکومت کے کھانے کی فہرست پر مشہور مؤرخ پشپیش پنت نے کہا کہ ’’یہ آدھا ادھورا قدم لگتا ہے جس میں شدت پسندی کی بو آتی ہے۔ اختصار میں کہیں تو جاہلانہ بکواس ہے۔‘‘

یوگی آدتیہ ناتھ / ویڈیو گریب
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

کھانے پر وقفہ وقفہ سے ہونے والی سیاست اور تنازع کے دوران اتر پردیش حکومت نے ’ایک ضلع، ایک کھانا‘ پہل شروع کی ہے۔ اس کے تحت روایتی کھانوں کی ضلع وار فہرست جاری کی گئی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس میں ریاست کے مختلف اضلاع میں شہرت رکھنے والے نان ویج (گوشت والے) کھانوں کو جگہ نہیں دی گئی ہے۔ اس فہرست کو جاری کرنے کا مقصد بہتر معیار، پیکیجنگ اور بازار تک آسان پہنچ کے ذریعہ مقامی کھانوں کو فروغ دینا بتایا جا رہا ہے۔

فہرست جاری ہونے کے بعد اتر پردیش کے شہرت یافتہ گوشت والے پکوان کی عدم شمولیت موضوع بحث ہے۔ افسران نے جو جانکاری دی ہے، اس کے مطابق جن پکوانوں کو فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے، ان میں کئی قومی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ کھانے شامل ہیں۔ مثلاً لکھنؤ کے مشہور ٹنڈے کباب، اودھی بریانی اور نہاری، رام پور کے شاہی رام پوری کھانے جیسے مٹن کورما اور سیک کباب اور بریلی کے مشہور مٹن کھانے کو اس فہرست میں جگہ نہیں دی گئی ہے۔


لکھنؤ کی طرح وارانسی اور الہ آباد (پریاگ راج) بھی اپنے مخصوص نان ویجیٹیرین اسٹریٹ فوڈ اور سالن کے لیے مشہور ہیں، جو ملک بھر سے کھانے کے شوقینوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اس معاملہ پر ’کزین سوسائٹی آف انڈیا‘ کے صدر اور پکوانوں پر گہری نظر رکھنے والے پشپیش پنت نے مکمل سبزی خور مینو کو ’آدھا ادھورا‘ قدم بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ آدھا ادھورا قدم لگتا ہے جس میں شدت پسندی کی بو آتی ہے۔ اختصار میں کہیں تو جاہلانہ بکواس ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پوری طرح سے ویجیٹیرین کھانے کے حق میں ہیں، مجھے سبھی کھانے پسند ہیں، میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ کسی بھی چیز کے انتخاب میں امتیاز کیوں کیا جائے؟

بہرحال، افسران نے دعویٰ کیا کہ ’ایک ضلع، ایک کھانا‘ (او ڈی او سی) پہل کے تحت تیار کی گئی فہرست میں ضلع کو اس کے خاص پکوانوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس فہرست میں آگرہ کے پیٹھے اور دال موٹھ، فیروز آباد کے آلو سے بنے کھانے، مین پوری کی سون پاپڑی اور اُبلے آلو کے کھانے، متھرا کے پیڑے شامل ہیں۔ یوپی میں علی گڑھ کو ڈیری مصنوعات اور کچوری، ہاتھرس کے ہینگ سے بنے کھانے، کاس گنج کے مونگ دال کا حلوہ اور سنگھاڑے کے آٹے سے بنے نمکین بھی شامل ہیں۔


افسران کے مطابق ایودھیا کی کچوری، پیڑا اور کلہڑ دہی-جلیبی، سلطان پور کے پیڑے اور نمکین کھانے، بارہ بنکی کی چندرکلا  اور امیٹھی کے سموسے اور گُڑ سے بنی میٹھائیوں کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ دیگر قابل ذکر اندراجات میں پریاگ راج کی کچوری، سموسہ اور رس ملائی، فتح پور کی بیڑمی پوری اور میٹھائیاں، کوشامبی کے گُڑ کی مصنوعات اور پرتاپ گڑھ کی آنولہ سے بنی کھانے کی چیزیں شامل ہیں۔ سہارنپور شہد پر مبنی مصنوعات کے لیے، مظفر نگر گُڑ کی مٹھائیوں کے لیے اور شاملی گٰڑ پر مبنی ناشتے کے لیے مشہور ہیں۔ افسران نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد ریاست کے تمام اضلاع میں مقامی کھانوں کو منظم طریقے سے فہرست بند کرنا اور انہیں فروغ دینا ہے۔

یوپی حکومت میں وزیر جے پی ایس راٹھور نے کہا کہ ’’ہم کسی بھی کھانے پر پابندی نہیں لگا رہے ہیں اور نہ ہی کھانے کے متبادل طے کررہے ہیں۔ ہم صرف سبزی والے کھانوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، ہم اس کھانے کی نمائش کر رہے ہیں جو ہمیں لگتا ہے کہ اس ضلع کی بہترین نمائندگی کرتا ہے۔‘‘

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔