دہلی میں کباب اور بریانی پر پریشانی کے بادل!
ڈِسپلے میں نان ویجیٹیرین کھانے کی چیزوں کو دیکھ کر سبزی خور لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں: ایس ڈی ایم سی

آپ کو بازاروں، خصوصاً مسلم محلوں میں ہوٹلوں کے باہر اور اسٹال لگا کر تندوری چکن، چکن فرائی، سیخ کباب ، ٹکّا کباب اور بریانی وغیرہ خوب نظر آتے ہوں گے، لیکن ان چیزوں پر اب ’سنکٹ کے بادل‘ منڈلانے لگے ہیں۔ دراصل جنوبی دہلی میں کھانے کی اس طرح کی چیزیں ڈِسپلے کرنے پر پابندی عائد کرنے سے متعلق تجویز کو منظوری دے دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ دن جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن (ایس ڈی ایم سی) کی ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں کونسلر راج دَت کے ذریعہ گوشت کی چیزیں ڈِسپلے یعنی اس طرح ٹانگنے یا رکھنے سے منع کرنے کی تجویز پیش کی گئی جس پر چلتے پھرتے ہوئے لوگوں کی نگاہ پڑتی ہے۔ میٹنگ میں موجود نندنی شرما نے تجویز کی یہ کہتے ہوئے حمایت کی کہ ’’دکانوں کے باہر کھلے میں نان ویجیٹیرین چیزیں ڈسپلے کرنے سے گندگی کا خطرہ رہتا ہے اور سبزی خور لوگوں کے جذبات بھی مجروح ہوتے ہیں۔‘‘ راج دَت کے ذریعہ پیش کردہ تجویز میں اس بات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے کہ اگر دکاندار کھلی جگہ میں نان ویجیٹیرین چیزیں ڈِسپلے کرتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے۔

خصوصی ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ جنوبی دہلی سے شروع ہونے والی یہ پابندی جلد ہی پوری دہلی پر نافذ کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو چاندنی چوک، جامع مسجد، نظام الدین اور اوکھلا جیسے علاقوں میں اسٹال اور ٹھیلوں پر فروخت ہونے والی نان ویجیٹیرین چیزیں یعنی چکن فرائی، چکن تندوری، سیخ کباب، ٹکّا کباب اور بریانی وغیرہ ہمیں نظر نہیں آئیں گی جو کہ کسی بھی علاقے میں شام کو ایک پرکشش نظارہ پیش کرتی ہیں۔
بی جے پی کی قیادت والی ایس ڈی ایم سی نے نان ویجیٹیرین چیزوں کا ڈسپلے نہ کرنے سے متعلق تجویز کو منظور کیے جانے کے دو اہم اسباب بتائے ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ بتائی گئی ہے کہ تندوری چکن اور کباب وغیرہ کو ڈسپلے کرنے سے ان پر دھول مٹی وغیرہ لگ جاتی ہے جو صحت کے لیے مضر ہو سکتا ہے۔ ایس ڈی ایم سی کے ہیلتھ افسر ڈاکٹر بی کے ہزاریکا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ دھول مٹی لگے کباب اور تندوری چکن وغیرہ کھانے سے ٹائفائیڈ، ہیضہ اور دست جیسی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔ ایس ڈی ایم سی نے تجویز منظور کیے جانے کی دوسری وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ڈِسپلے میں نان ویجیٹیرین کھانے کی چیزوں کو دیکھ کر بہت سے سبزی خور لوگ اچھا محسوس نہیں کرتے۔

میٹنگ میں شامل ایک اہم لیڈر شکھا رائے نے اس سلسلے میں کہا کہ صاف صفائی کے مدنظر بھی یہ فیصلہ انتہائی اہم ہے اور جلد ہی کچے اور پکے سبھی طرح کی نان ویجیٹیرین چیزوں کو ڈِسپلے کرنے پر پابندی لگائی جائے گی۔ اب اس تجویز کو کارپوریشن کے کمشنر کے پاس اجازت کے لیے بھیجا جائے گا۔ کمشنر یہ طے کریں گے کہ تجویز دہلی میونسپل کارپوریشن ایکٹ کے تحت ہے یا نہیں۔ ان کے پاس اس تجویز کو قبول اور خارج کرنے کا اختیار ہے۔
ذرائع کے مطابق ایس ڈی ایم سی کی آئندہ میٹنگ 3 جنوری کو ہونی ہے جس میں اس سلسلے میں حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔ ایس ڈی ایم سی کے ایک افسر کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ سب کچھ ٹھیک رہا تو ممکن ہے جنوبی دہلی کے بعد راجدھانی کے دیگر حصوں میں بھی اس پالیسی کو اپنایا جائے گا۔ نندنی شرما نے ایک خبر رساں ادارہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے مشہور ریسٹورینٹ اپنی دکانوں کے باہر نان ویجیٹیرین چیزوں کو ٹانگ کر رکھتے ہیں جو کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ کباب اور چکن وغیرہ کو ٹانگنے سے آوارہ جانور یعنی کتے وغیرہ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس سے کئی طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن جب کچھ نان ویجیٹیرین اشیاء فروخت کرنے والے کچھ ہوٹلوں کے کارکنان سے گفتگو کی گئی تو انھوں نے اس فیصلے کو شبہ کی نگاہوں سے دیکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ہم صفائی کا پورا خیال رکھتے ہیں اور قانون پر عمل کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے لیکن گندگی اور مٹی تو سبزی سے بنی ہوئی چیزوں پر بھی لگ سکتی ہیں جو کھلی فضا میں فروخت ہوتے ہیں۔‘‘ ایک ویب سائٹ سے بات چیت کرتے ہوئے ’فیڈریشن آف ہوٹل اینڈ ریسٹورینٹ ایسو سی ایشن آف انڈیا‘ کے سابق سربراہ سنیل ملہوترا نے بھی واضح لفظوں میں کہا کہ ’’نان ویج فوڈ آئٹم کو برسرعام فروخت کرنے سے کس طرح روکا جا سکتا ہے جبکہ ویج فوڈ آئٹم بھی اسی طرح فروخت ہوتی ہیں؟‘‘
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 28 Dec 2017, 10:12 PM
