سچ کو ’خاموش‘ کرنے کی کوشش! یو پی پولس کا صحافیوں پر مقدمے کرنے کا سلسلہ

صحافی پر مقدمہ درج کرنے کا تازہ معاملہ بجنور کا ہے جہاں والمیکی سماج کی ایک فیملی کو سرکاری نل سے پانی پینے سے روکا گیا۔ جب صحافیوں نے اس کی رپورٹنگ کی تو پانچ صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا گیا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

آس محمد کیف

انکاؤنٹر کے لیے مشہور ہو چکی یو پی پولس اب صحافیوں کے خلاف مقدمے کر رہی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں مرزا پور، نوئیڈا، شاملی اور بجنور میں صحافیوں کے خلاف کئی مقدمے درج ہوئے ہیں۔ ان سبھی میں پولس یا انتظامیہ مدعی ہے۔ اس سلسلے میں صحافی طبقہ کا کہنا ہے کہ ان پر مقدمے اس لیے درج کیے جا رہے ہیں کیونکہ انتظامیہ کی خواہش کے مطابق خبریں شائع نہیں ہو رہی ہیں۔ صحافی طبقہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ویسے بھی عوامی ایشوز کو اٹھانے والے صحافی بہت کم بچے ہیں اور ایسے میں ان پر مقدمہ کر کے آواز دبانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

صحافی پر مقدمہ درج کرنے کا تازہ معاملہ بجنور کا ہے جہاں والمیکی سماج کی ایک فیملی کو سرکاری نل سے پانی پینے سے روکا گیا، اور جب صحافیوں نے اس کی رپورٹنگ کی تو ناراض ہو کر پانچ صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا گیا۔ اس سے قبل شاملی میں جھوٹا مقدمہ درج ہونے سے ناراض صحافی ایک ہفتہ دھرنے پر رہے ہیں۔ نوئیڈا میں صحافیوں کی خبروں سے ناراض پولس نے چار صحافی کو رنگداری جیسے الزامات میں نہ صرف جیل بھیجا بلکہ ان پر گینگسٹر جیسی بڑی کارروائی بھی کی گئی۔ سرکاری اسکول میں مڈ ڈے میل میں روٹی نمک والا کھانا کھلانے کی خبر منظر عام پر لانے والے صحافی پون جیسوال کے خلاف بھی رپورٹ درج ہونے کی بات سرخیاں بن چکی ہیں۔

سینئر صحافی ڈاکٹر مہرالدین خان کے مطابق یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ سرکار انہی صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کر رہی ہے جن کی خبروں نے انھیں پریشان کیا ہے۔ اگر کسی خبر کی صداقت پر پولس انتظامیہ کو کوئی شبہ ہے تو اس کے لیے ثبوت مانگے جائیں اور اس کے لیے پریس کونسل موجود ہے، لیکن سیدھے طور پر مقدمہ درج کر جیل بھیج دینا صحافیوں کی آواز کچل دینے کی کوشش ہے۔

سچ یہ ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں یو پی میں صحافیوں پر مظالم کے معاملے بڑھے ہیں۔ کئی بار پریس کونسل کی ٹیم نے یہاں دورہ کیا ہے۔ کئی چیزوں کے بارے میں صحافیوں نے خبر شائع کرنے سے بچنا شروع کر دیا ہے۔ بجنور کے معاملے نے تو صحافیوں کی ہمت کو ہی کمزور کر دیا ہے۔

سچ کو ’خاموش‘ کرنے کی کوشش! یو پی پولس کا صحافیوں پر مقدمے کرنے کا سلسلہ

بجنور میں صحافیوں کے خلاف درج کرائے گئے مقدمے میں ایف آئی آر کافی تفصیل سے لکھی گئی ہے۔ ایف آئی آر سے ظاہر ہے کہ افسروں میں اس مقدمہ کو لے کر کافی غور و خوض ہوا۔ جب اس ایف آئی آر کو آپ پڑھیں گے تو چیزیں مزید واضح ہو جائیں گی۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ ’’پولس کے خلاف وسیع پیمانے پر منفی تشہیر کی گئی، غلط خبریں لوگوں تک پہنچائی گئیں، پبلک کے لیے کیے گئے انتظامات پر بھی اس کا اثر پڑا، ان کے ذریعہ بولی گئی اور لکھی گئی اور مشتہر کی گئی چیزیں غلط تھیں، سماجی خیر سگالی کو ختم کرنے اور نسلی کشیدگی پیدا کرنے والا کام اور قومی سیکورٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔‘‘

بجنور معاملہ میں اہم ملزم بنائے گئے صحافی آشیش تومر اس تعلق سے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’دیکھیے، یہ معاملہ منڈاور قصبے کے دلت بستی کا ہے۔ یہاں گوپال مانڈو نام والے ایک شخص نے ہمیں خبر دی کہ اس کا نل خراب ہو گیا ہے اور اس کی فیملی کو سرکاری (پبلک) نل سے پانی بھرنے سے روکا جا رہا ہے۔ اس کے بچوں کے ساتھ مار پیٹ بھی ہوئی ہے، وہ والمیکی ہے جب کہ ملزم جاٹو ہے، یہ چھوا چھوت کا معاملہ ہے۔ میں نے پولس میں شکایت کی ہے اور کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد ہم نے یہ خبر شائع کی جس سے انتظامیہ ناراض ہو گیا۔ ہم نے اپنا کام کیا اور ہم وہ کرتے رہیں گے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ آشیش میرٹھ سے شائع ایک بڑے اخبار کے رپورٹر ہیں۔

اس کے بعد بجنور ضلع کے کئی صحافیوں نے یہ خبر شائع کی جس کے بعد انتظامیہ میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ ضلع کے ایک بڑے افسر کہتے ہیں کہ مقامی لوگوں نے بتایا تھا کہ صحافیوں نے خود متاثرین کو اپنے مکان پر ’مکان بکاؤ ہے‘ لکھنے کے لیے کہا تھا، تاکہ معاملہ سنسنی خیز بن سکے۔ اس معاملے میں ایک نیوز چینل کے صحافی شکیل احمد سمیت پانچ صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔

مقدمہ درج ہونے کے بعد بجنور کے صحافیوں میں مایوسی اور ناراضگی دونوں ہے۔ سبھی دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں۔ بجنور کے سینئر صحافی وسیم اختر کے مطابق اب انتظامیہ سے سمجھوتہ کے لیے بات چیت ہوئی ہے۔ وہ مقدمہ میں ایف آئی آر لگانے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ مستقبل میں صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے پہلے غیر جانبدارانہ جانچ ہوگی۔

شاملی کا صحافی طبقہ بھی انتظامیہ کی حرکتوں سے ناراض ہے۔ جرنلسٹ ایسو سی ایشن کے ترجمان وسیم منصوری کے مطابق ایس پی کے پاس شکایت لے کر گئے صحافی اختر قریشی کے خلاف ہی مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ ساتھ ہی جی آر پی کے ذریعہ بری طرح پیٹے گئے صحافی امت ورما والے معاملے میں بھی پولس اپنے محکمہ کے حق میں کھڑی ہے۔ اس لیے صحافی دھرنا و مظاہرہ کر رہے ہیں۔

نوئیڈا میں چار صحافیوں کے خلاف معاملے کو لے کر پولس کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مظفر نگر کے سماجوادی پارٹی لیڈر چندن چوہان کہتے ہیں کہ ’’میری بیوی بھی صحافی ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام کتنا چیلنجنگ ہے۔ صحافت کا معیار لگاتار گرتا جا رہا ہے، جو اچھے صحافی بچے ہیں، انھیں مقدمہ کا خوف دکھا کر خاموش کیا جا رہا ہے۔‘‘

سہارنپور کے صحافی منوج مشرا کے مطابق صحافیوں پر صرف پولس انتظامیہ کی کارروائی کا ہی خوف نہیں ہے بلکہ ایک فریق سے بھیڑ بہت ناراض ہے۔ کچھ دنوں میں صحافیوں کی لنچنگ کی خبر بھی آ سکتی ہے۔ دو سال پہلے ہوئے بھیم آرمی کے ہنگامہ میں خصوصی طور پر صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ان کی ڈیڑھ درجن گاڑیاں جلا کر خاک کر دی گئی تھیں۔ اس وقت صحافی طبقہ مشکل میں ہے اور انھیں سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ وہ کریں تو کیا کریں۔

Published: 12 Sep 2019, 7:10 PM