اتر پردیش: گویل انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر نے کی خودکشی، پنکھے سے لٹکی ملی لاش

40 سالہ پروفیسر نے مبینہ طور پر پنکھے میں چادر باندھ کر خودکشی کر لی۔ واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد موقع پر پہنچی پولس نے لاش کو پھندے سے اتار کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا ہے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

یو این آئی

لکھنؤ: اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے غازی پور علاقے میں گویل انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر ڈاکٹر جے پرکاش ترپاٹھی نے پھانسی لگا کر خودکشی کرلی ہے۔ پولس ذرائع نے پیر کے روز بتایا کہ مستقل طور سے گونڈہ کے پرس پور علاقے کے چینی تیواری پوروا بلم پتھر باشندہ گویل انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر جے پرکاش ترپاٹھی اندرا نگر میں اپنی ماں اور دو بچوں کے ساتھ رہتے تھے جنھوں نے گزشتہ شب خودکشی کر لی۔

واقعہ کے تعلق سے پولس کا کہنا ہے کہ 40 سالہ جے پرکاش ترپاٹھی اتوار کی شب تقریبا 11:30بجے اپنے کمرے میں داخل ہوئے۔ کچھ دیر بعد ان کی ماں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو دروازہ نہیں کھلا۔ کافی دیر بعد جب دروازہ نہیں کھلا تو انہوں نے اس کی اطلاع پاس میں ہی رہنے والے رشتہ دار نند کشور تیواری کو دی۔ نند کشو ر اپنے بیٹے ستیہ نند ترپاٹھی کے ساتھ وہاں پہنچے۔انہوں نے بھی دروازہ کھٹکھٹایا لیکن نہیں کھلا۔ جب زور سے دروازہ کو دھکیل کر کمرے میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ترپاٹھی کی لاش پنکھے میں چادر کے پھندے سے لٹکی ہوئی ہے۔

واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد موقع پر پہنچی پولس نے لاش کو پھندے سے اتار کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا ہے۔ معاملے کی تحقیق کی جارہی ہے۔سب انسپکٹر درگا پرساد یادو نے اس تعلق سے کہا کہ ابتدائی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ خودکشی کی وجہ میاں-بیوی کے درمیان تنازع ہے۔پولس معاملے کی گہرائی سے جانچ کررہی ہے۔