اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی ڈگری اصلی یا نقلی؟ عدالت آج کرے گی فیصلہ

وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ پر الزام ہے کہ انہوں نے فرضی ڈگری کا استعمال کرتے ہوئے 5 مختلف انتخابات لڑے۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے فرضی ڈگری کی بنیاد پر ہی پٹرول پمپ بھی حاصل کر لیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ اور بی جے پی لیڈر کیشو پرساد موریہ کی مبینہ فرضی ڈگری سے متعلق معاملہ میں آج الہ آباد کی اے سی جے ایم-17 عدالت اپنا فیصلہ سنانے جا رہی ہے۔ عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ آج شام کے تقریباً 4 بجے سنایا جائے گا۔

گزشتہ 6 اگست کو اس معاملہ میں عدالت نے سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ پر الزام ہے کہ انہوں نے فرضی ڈگری کا استعمال کرتے ہوئے 5 مختلف انتخابات لڑے۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے فرضی ڈگری کی بنیاد پر ہی پٹرول پمپ بھی حاصل کر لیا۔ جس عرضی پر سماعت کی جا رہی ہے اسے آر ٹی آئی ایکٹوسٹ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر دیواکر تریپاٹھی کی جانب سے داخل کیا گیا تھا۔


آر ٹی آئی ایکٹوسٹ دیواکر کی جانب سے عدالت میں دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سال 2007 میں کیشو پرساد موریہ نے شہر کے مغربی اسمبلی حلقہ سے اسمبلی انتخاب لڑا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی دوسرے انتخابات بھی لڑے ہیں۔ انہوں نے نے ہندی ساہتیہ سمیلن کے جاری کردہ اپنے تعلیمی سرٹیفکیٹ میں پرتھم، دویتیہ وغیرہ کئی ڈگری لگائی ہے۔ اسے ریاستی حکومت یا کسی بورڈ نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

ان ڈگریوں کی بنیاد پر انہوں نے انڈین آئل کارپوریشن سے ایک پٹرول پمپ بھی حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ ان کی ڈگریوں میں الگ الگ تاریخ درج ہے۔ عدالت اس معاملے میں اپنا فیصلہ آج سنائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔