اتر پردیش: ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں کروڑوں نام حذف ہونے سے تشویش کا ماحول، اعتراضات داخل کرنے کے لیے اب 6 فروری تک کا وقت

نودیپ رِنوا نے کہا کہ ’’ڈرافٹ ووٹر لسٹ پر دعوے اور اعتراضات 6 جنوری سے 6 فروری تک درج کرائے جا سکیں گے۔ اس دوران لوگ لسٹ میں نام شامل کرنے، اصلاح کرنے یا اعتراض درج کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

الیکشن کمیشن نے اترپردیش میں ایس آئی آر کے بعد ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری کر دیا، جس کے بعد لوگوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ تشویش کی وجہ یہ ہے کہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں، پہلے سے موجود ووٹرس کے مقابلے کروڑوں نام حذف ہو گئے ہیں۔ دی گئی جانکاری کے مطابق ووٹر لسٹ سے تقریباً 2.88 کروڑ نام کٹے ہیں۔ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) اور ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے متعلق اترپردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر نودیپ رِنوا نے پریس کانفرنس کر ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے سلسلے میں تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جس کے نام کٹ گئے ہیں، ان کے پاس ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے لیے ابھی کیا آپشن ہے اور بیرون ممالک رہے ووٹرس کے پاس کیا متبادل راہ ہے۔

اترپردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر نودیپ رِنوا نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’اترپردیش کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری کر دی گئی ہے۔ تمام 75 اضلاع میں آج تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ بھی میٹنگ ہوئی ہے۔ تمام کو ایک ہارڈ کاپی اور سافٹ کاپی دی گئی ہے۔ ووٹر آسانی سے ویب سائٹ پر جا کر لسٹ میں اپنا نام دیکھ سکتے ہیں۔ 27 اکتوبر 2025 کو جب ایس آئی آر عمل کا اعلان ہوا تھا، اسی وقت ووٹر لسٹ کو فریز کر دیا گیا تھا۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’ووٹرس کا شماریاتی فارم اور یونیک آئی ڈی نکالی گئی تھی، جو 2-2 فارم کی شکل میں دی گئی تھی۔ پہلے ایک ہفتہ کے لیے اس عمل میں توسیع کی گئی تھی۔ یہ عمل 11 دسمبر کو ختم ہونی تھی لیکن 2 کروڑ 97 لاکھ لوگوں کے نام کٹ رہے تھے، اس لیے 2 ہفتہ کی توسیع کی گئی تھی۔ 15030 نئے پولنگ اسٹیشن بھی بنائے گئے، جس کے لیے 6 روز کا اضافی وقت بھی لیا گیا۔ آج 6 جنوری کو ڈرافٹ لسٹ جاری ہوئی ہے۔‘‘


چیف الیکٹورل آفیسر کا کہنا ہے کہ ’’12 کروڑ 55 لاکھ 56 ہزار 25 شماریاتی فارم موصول ہوئے۔ 18.70 فیصد لوگوں کے فارم واپس نہیں آئے۔ ایس آئی آر سے پہلے کی ووٹر لسٹ میں 15 کروڑ 44 لاکھ 30 ہزار 92 ووٹرس شامل تھے۔ ایس آئی آر میں پہلے راؤنڈ کے بعد ووٹرس کی تعداد 12 کروڑ 55 لاکھ 55 ہزار 984 رہ گئی۔ ووٹر لسٹ سے فی الحال باہر کیے گئے لوگوں کی تعداد 2 کروڑ 88 لاکھ 74 ہزار 108 ہے، جو کہ 18.70 فیصد ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’ان میں سے فوت شدہ ووٹرس کی تعداد 46 لاکھ 23 ہزار 796 ہیں، جو کہ 2.99 فیصد ہیں۔ 79 لاکھ 58 ہزار 190 ووٹرس 5.15 فیصد غیر حاضر پائے گئے ہیں۔ مستقل طور پر منتقل ہونے والے ووٹرس کی تعداد فی الحال 1 کروڑ 29 لاکھ 77 ہزار 472 (8.4 فیصد) ہے۔ پہلے سے رجسٹرڈ ووٹرس کی تعداد 25 لاکھ 47 ہزار 207 ہے، دیگر 7 لاکھ 74 ہزار 472 ووٹرس ہیں۔‘‘

نودیپ رِنوا نے کہا کہ ’’8 فیصد لوگوں کی میپنگ نہیں ہو پائی ہے، ان لوگوں کو ہم نوٹس دینے کا کام کریں گے۔ 6 مارچ 2026 کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کریں گے۔ پہلا کام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ضلعی سطح پر کیا گیا ہے، ریاست میں بھی ہم کر رہے ہیں۔ جن کا نام ڈرافٹ الیکٹورل رول میں ہے، انہیں فارم-6 نہیں بھرنا ہے، جن کا نام نہیں ہے انہیں بھرنا ہوگا۔ شفٹنگ کے لیے بھی فارم بھرنا ہوتا ہے، فارم-8 بھر سکتے ہیں۔‘‘


الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں نہیں ہے تو فارم-6 بھر کر ضروری کاغذات جمع کرانے ہوں گے۔ اب تک 15,78,483 فارم-6 نئے ووٹرس کے اندراج کے لیے موصول ہو چکے ہیں۔ جانچ کے بعد نام ووٹر لسٹ میں شامل کیے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے 18 سال مکمل کر چکے ووٹرس سے اپیل کی ہے کہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں اپنا نام ضرور چیک کر لیں۔ اگر لسٹ میں نام نہیں ہے تو اس کے لیے فارم-6 اور نام یا پتے میں اصلاح کے لیے فارم-8 بھر سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 6 جنوری سے 6 فروری 2026 تک اپنا دعویٰ اور اعتراض درج کرا سکتے ہیں۔ جن کا نام ڈرافٹ لسٹ میں نہیں ہے وہ اس مدت میں فارم بھر کر اپنا نام دوبارہ شامل کرا سکتے ہیں۔ دعووں اور اعتراضات کا تصفیہ 27 فروری تک کیا جائے گا، پھر 6 مارچ 2026 کو حتمی ووٹر لسٹ آئے گی۔

اترپردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر نے بتایا کہ ’’ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں اپنا نام ای سی آئی-این ای ٹی موبائل ایپ پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ کسی کا نام ہٹانا ہے تو فارم-7 ضرور بھر دیں۔ فارم 6-اے بیرون ممالک رہنے والے ہندوستانی ووٹرس کے لیے ہے، وہ اس فارم کو بھر کر ووٹر بن سکتے ہیں، پاسپورٹ میں جو لوکل ایڈریس ہے اسی پر۔‘‘ ایس آئی آر عمل کے متعلق انہوں نے بتایا کہ ریاستی سطح پر 3 میٹنگ ریاستی پارٹیوں کے ساتھ ہوئی۔ ضلعی سطح پر بھی میٹنگیں ہوئیں، اس طرح مجموعی طور پر 1540 میٹنگیں سیاسی پارٹیوں کے ساتھ کی گئیں۔ 15 لاکھ 78 ہزار 483 فارم-6 بھی موصول ہوئے، آن لائن اور آف لائن بھی ہوئے ہیں۔ یہ نئے ووٹرز شامل کیے جائیں گے۔


الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 27 اکتوبر 2025 کی ووٹر لسٹ میں 15,44,30,092 میں سے 12,55,56,025 ووٹرس نے شماریاتی مرحلہ کی آخری تاریخ 26 دسمبر 2025 تک فارم جمع کیے۔ کوئی بھی اہل ووٹر چھوٹ نہ جائے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے چیف الیکٹورل آفیسر، ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسرز اور الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز کے ذریعہ بیداری مہم چلائی گئی تھی۔ تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ کئی مرحلوں کی میٹنگیں ہوئیں۔

چیف الیکشن آفیسر نودیپ رِنوا نے کہا کہ اب ڈرافٹ ووٹر لسٹ پر دعوے اور اعتراضات 6 جنوری سے 6 فروری تک درج کرائے جا سکیں گے۔ اس دوران لوگ لسٹ میں نام شامل کرنے، اصلاح کرنے یا اعتراض درج کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ انہوں نے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ 46.23 لاکھ ووٹرس (2.99 فیصد) مردہ پائے گئے، جبکہ 2.57 کروڑ ووٹرس (14.06 فیصد) یا تو مستقل طور پر باہر چلے گئے تھے یا ایس آئی آر عمل کے دوران موجود نہیں تھے۔ جبکہ 25.47 لاکھ دیگر ووٹرس کا نام ایک سے زائد جگہوں پر رجسٹرڈ پایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں اب 12.55 کروڑ ووٹرس ہیں اور اس میں ریاست کے تمام 75 اضلاع اور 403 اسمبلی حلقے شامل ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ایس آئی آر عمل میں 72 ہزار 486 بوتھ شامل کیے گئے تھے۔ ان میں بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) فارم پُر کرانے کے لیے ووٹرس تک پہنچے تھے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔